ٹرمپ کا عین موقع پر فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان؛ جنوبی کوریا نے متبادل تلاش کرلیا

امریکی صدر نے سالانہ مشق کے آغاز سے چند گھنٹے قبل جنوبی کوریا کیساتھ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی ہدایت کی۔


ویب ڈیسک August 18, 2026
صدر ٹرمپ مبینہ طور پر شمالی کوریا کے قریب ہورہے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نمایاں طور پر کم کرنے کے حکم کے بعد جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جنگ کی صورت میں اپنی فوج کی مکمل کمان امریکا سے واپس لینے اور ملکی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔ جنوبی کوریا کو امریکا کے ساتھ مضبوط اتحاد برقرار رکھنے کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران فوج کی آپریشنل کمان امریکا سے جنوبی کوریا کو منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی بلا تعطل پیش رفت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

لی جے میونگ نے کہا کہ مضبوط اتحاد قومی سلامتی کی بنیاد کو مزید مستحکم کرتا ہے جبکہ اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ جنوبی کوریا کو ایک زیادہ اہم اور قابلِ اعتماد اتحادی بناتا ہے۔ 

ٹرمپ نے فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم کیوں دیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ اعلان سالانہ فوجی مشق الچی فریڈم شیلڈ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ان کے ساتھ ہمیشہ احترام سے پیش آکر تعلقات کو بہتر رکھا ہے۔

امریکی صدر نے کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ پالیسی جزیرہ نما کوریا کو زیادہ محفوظ بنا رہی ہے۔ 

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے مشقوں کے اخراجات اور جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں تعاون نہ کرنے کو بھی اپنے فیصلے کی وجوہ میں شامل کیا ہے۔

18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی مشقوں میں شامل

الچی فریڈم شیلڈ مشقیں 17 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی تھیں اور ان میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی شامل ہونے تھے۔

مشقوں کا مقصد شمالی کوریا سے ممکنہ جنگ سمیت جدید جنگی حالات میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ آپریشن کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

اس سال کی مشقوں میں ڈرون جنگ، سائبر حملوں اور جی پی ایس نظام میں خلل جیسے جدید خطرات سے نمٹنے کے پہلو بھی شامل کیے گئے تھے، جن میں یوکرین جنگ سے حاصل ہونے والے اسباق کو مدنظر رکھا گیا۔ 

رپورٹس کے مطابق امریکی افواج کوریا کے کمانڈر جنرل زیویئر برونسن نے منگل کو جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا دورہ بھی کیا، جہاں مشترکہ مشقوں کا دائرہ کم کرنے کے منصوبے پر بات چیت ہوئی۔ 

جنگی کمان امریکا سے واپس لینے کا منصوبہ

جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران آپریشنل کمان کا نظام کوریا جنگ کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔

جنوبی کوریا نے 1994 میں اپنی فوج کی پرامن حالات میں کمان دوبارہ حاصل کرلی تھی تاہم جنگ کی صورت میں آپریشنل کمان اب بھی امریکی قیادت والے مشترکہ کمانڈ ڈھانچے کے تحت رہتی ہے۔

سیئول گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جنگی آپریشنل کمان مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کررہا ہے تاہم یہ منتقلی مختلف وجوہ کی بنا پر کئی مرتبہ مؤخر ہوچکی ہے۔

صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت اپنے موجودہ دورِ اقتدار، جو 2030 میں ختم ہوگا، کے دوران جنگی آپریشنل کنٹرول جنوبی کوریا کو منتقل کرنے کے منصوبے پر عمل جاری رکھے گی۔

جوہری آبدوزوں کی تیاری بھی تیز کرنے کی ہدایت

لی جے میونگ نے جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے پروگرام میں بھی تیزی لانے پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کے ممکنہ تنازعات سے نمٹنے کے لیے ایسے فوجی افسران اور کمانڈ ڈھانچے کی تیاری ضروری ہے جو مختلف عسکری شعبوں کو مربوط انداز میں استعمال کرسکیں۔

سیئول کی جانب سے دفاعی خودمختاری پر یہ زور ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکا کے طویل عرصے سے جاری اتحادی دفاعی انتظامات کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی نے جنوبی کوریا میں تشویش پیدا کردی ہے۔

مشقیں شمالی کوریا پر حملے کے لیے نہیں

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی فوجی مشقوں کا مقصد شمالی کوریا پر حملے کی تیاری یا کشیدگی میں اضافہ کرنا نہیں۔

صدارتی دفتر کے مطابق ان مشقوں کا بنیادی مقصد کسی مخصوص فریق کو دشمن سمجھنا نہیں بلکہ جنوبی کوریا کے عوام کی محفوظ اور پُرامن روزمرہ زندگی کے تحفظ کے لیے دفاعی تیاری برقرار رکھنا ہے۔ 

شمالی کوریا کے روس سے بڑھتے فوجی تعلقات

دوسری جانب شمالی کوریا نے گزشتہ برسوں کے دوران روس کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات نمایاں طور پر مضبوط کیے ہیں۔

شمالی کوریا نے روس کے یوکرین کے خلاف جنگی اقدامات میں فوجی اہلکاروں، توپ خانے کے گولہ بارود اور بیلسٹک میزائلوں سمیت مدد فراہم کی ہے۔

جنوبی کوریا اور امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ میں شمالی کوریائی فوجیوں کی شرکت نے شمالی کوریا کو ڈرونز اور دیگر جدید جنگی حربوں کا عملی تجربہ فراہم کیا ہے جس کے باعث مشترکہ فوجی مشقوں میں بھی ان نئے خطرات کو شامل کیا جارہا تھا۔ 

ٹرمپ اور کم کی ممکنہ بات چیت

ٹرمپ نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ کم جونگ اُن نے ان کی حالیہ پیش قدمی کا جواب دیا ہے تاہم انھوں نے اس رابطے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ دونوں کے درمیان معاملات بہت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اپنے سابقہ بیانات دہراتے ہوئے کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔

جنوبی کوریا نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے فوجی مشقیں کم کرنے کا فیصلہ بالآخر امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔