اسلام آباد:
داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں 1.282 ارب روپے کے مبینہ غبن کا انکشاف ہوا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ اقتصادیات نے پاور سیکٹر کے منصوبوں میں بدعنوانی کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے اور نیب کو داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
کمیٹی کے خط کے مطابق داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ (Lot-IV) میں 1.282 ارب روپے کا مبینہ غبن ہوا ہے، جس میں ٹیکسوں کی مد میں غائبانہ رقوم کنٹریکٹر کی قیمت میں شامل کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
خط میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے پر ایف آئی اے اور نیب کو رقم کی فوری ریکوری کی ہدایت کی گئی ہے۔ خط کے مطابق اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر تھرڈ لوئیسٹ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے فنڈڈ پروجیکٹ میں قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
کمیٹی نے ملکی اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کی سخت ہدایت کی ہے۔ علاوہ ازیں کمیٹی نے پاور ڈویژن کے ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔