میر رضا قتل کیس کا جوڈیشل کمیشن تشکیل؛ فیصلے کیخلاف اہل خانہ عدالت پہنچ گئے، فریقین کو نوٹس جاری

درخواست میں چیف سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ داخلہ، وزارت داخلہ، پولیس سرجن، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی فریق ہیں


ناصر بٹ August 24, 2026
(فوٹو: اے آئی)

کراچی:

محکمہ داخلہ سندھ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کے تحت سندھ ہائی کورٹ کی نامزدگی پر جسٹس عمر سیال کو سنگل ممبر کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن میر رضا علی ولد میر حسین علی، رہائشی پلاٹ 126-K، سیکنڈ فلور، بلاک 02، پی ای سی ایچ ایس ایسٹ کراچی کی موت کے حالات کا جائزہ لے گا۔ اس واقعے کا مقدمہ فیروزآباد تھانے میں ایف آئی آر نمبر 795/2026 دفعات 365، 302 اور 201 پی پی سی کے تحت درج ہے۔

کمیشن کو 4 اہم ٹرمز آف ریفرنس دیے گئے ہیں۔ کمیشن میر رضا علی کی موت کے محرکات کا تعین کرے گا، تفتیش کے غیرجانب دار ہونے کا جائزہ لے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ آیا کسی پولیس افسر یا دیگر اہلکار نے غفلت یا شواہد چھپانے جیسا عمل تو نہیں  کیا اس کے علاوہ کمیشن مزید تفتیش، فرانزک تجزیہ اور قانونی کارروائی کے لیے بھی سفارشات دے گا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کوعدالتی اختیارات حاصل ہوں گے۔ وہ گواہوں کو طلب کرے گا، حلف پر بیانات ریکارڈ کرے گا اور دستاویزات طلب کر سکے گا۔ تمام سرکاری اداروں کو کمیشن سے مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔

 محکمہ داخلہ نے کمیشن کو تشکیل کی تاریخ سے 30 دن کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ کمیشن کو سیکریٹریٹ سپورٹ محکمہ داخلہ فراہم کرے گا۔

کمیشن کا قیام ہائی کورٹ میں چیلنج، فریقین کو نوٹسز جاری

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے میر رضا قتل کیس میں اہل خانہ کی جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو میر رضا قتل کیس میں اہلخانہ کی جوڈیشل کمیشن کیخلاف اور جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست مقتول میر رضا علی کے والدین میر حسین علی خان ، مریم حسین اور مقتول کی بہن علشبہ خان نے جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میر رضا علی قتل کیس میں اب تک ہونے والی تفتیش سے نتیجہ اخذ ہوتا کہ تحقیقاتی خرابیاں ادارے میں موجود ہیں اور اس لئے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ قبل ازیں درخواست گزاروں نے حکومت سندھ سے اپیل کی تھی کہ جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہوں اور ان سے تحقیقات کرائی جائیں تاہم 22 اگست کو چیف سیکریٹری سندھ نے فیصلہ کیا کہ کیس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا لیکن اس حوالے سے درخواست گزاروں کے ساتھ نہ کوئی مشورہ کیا گیا اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن کے لئے ٹی آر اوز ڈسکس کیئے گئے۔

انہوں مزید اپنے دلائل میں کہا کہ ادارے کی ناکامیوں کے حوالے سے عدالتی جانچ پڑتال کے خلاف نہیں ہے کیونکہ درخواست گزار یہ چاہتے ہیں کہ ایگزیکٹو اور پولیس نے جو غلطیاں کی ہیں ان کی جانچ پڑتال ہونی چاہئیں اور درخواستگزار یہ چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کو فوجداری مقدمات کی تحقیقات کے لئے متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر اعتراض ہے کیونکہ جو فوری قانونی ضابطہ کی کارروائی ہوتی ہے اس میں پولیس کو ملزمان کا تعین کرنا پڑتا ہے ان کیخلاف ثبوت اکھٹے کرنے ہوتے ہیں اور ان کیخلاف چارج شیٹ جمع کرانی ہوتی ہے جو کہ جوڈیشل کمیشن یہ کام نہیں کرسکتا۔

درخواستگزاروں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن قیام کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں سندھ پولیس، رینجرز، ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ماہر نمئدوں پر مشتمل ہو اور مذکورہ ٹیم ہر پہلو سے تحقیقات کرے۔ مذکورہ جے آئی ٹی ڈی آئی جی فرخ لنجار سمیت دیگر 6 افسران کے خلاف بھی تحقیقات کریں اور کیس خراب کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی جائے کہ ذمہ داران کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کریں اور انہیں انکوائری مکمل ہونے تک عہدوں سے برطرف کیا جائے اور تفتیشی افسران کو مذکورہ درخواست پر کارروائی مکمل ہونے تک تفتیشی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع نہ کرائی جائے۔

درخواست کی سماعت چیمبر میں ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل جبران ناصر نے موقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحقیقات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ میڈیا سے معلوم ہوا کہ سندھ حکومت کیس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے رہی ہے۔ اس مرحلے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیس پر منفی طور پر اثر انداز ہوگی۔ جوڈیشل کمیشن کی انکوائری عدالت میں چالان کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے جوڈیشل کمیشن کی ٹرمز اینڈ کنڈیشن سے طلب کرلیے ہیں۔ عدالت نے پولیس سے غفلت اور لاپرواہی برتنے والے افسران سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ عدالت نے فریقین کو 31 اگست کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔

درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری محکمہ داخلہ سندھ، وزارت داخلہ، وزارت دفاع، پولیس سرجن ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو فریق بنایا ہے۔ درخواست گزاروں نے قتل کیس کے تفتیشی افسران کی ٹیم میں شامل ڈی آئی جی ایسٹ فرخ علی لنجار، ایس ایس پی سی آئی اے، سمیع اللہ سومرو، ایس ایس ایسٹ زبیر نذیر شیخ، ایس پی ایسٹ عثمان سدوزئی، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضل، ایس آئی او فیروز آباد شہباز لغاری، ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی ، ڈی ایس پی شاہراہ فیصل ارشد آفریدی سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔

سماعت کے بعد گفت گو میں درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ فی الحال ہماری درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ سے جواب طلب کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آر سے آگاہ کیا جائے کہ آپ نے کمیشن کیوں بنایا ہے۔ اہلخانہ شفاف تحقیقات اور جے آئی ٹی کی تشکیل چاہتے ہیں، اس پر حکومت سے جواب مانگا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے چیف سیکریٹری سے پوچھا ہے کہ درخواست میں ڈی آئی جی  شرقی فروخ لنجھار سے دیگر افسران کیخلاف کیا کارروائی کی گئی۔

عدالت نے موجودہ تفتیشی ٹیم کو تفتیش فائنلائز کرنے سے روک دیا گیا ہے جب تک یہ درخواست پینڈنگ ہے۔

اس سے پہلے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے بعد میر رضا کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے گفتگو میں کہا کہ میڈیا کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا میڈیا سے پتہ چلا، سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس صاحب کو خط ارسال کیا گیا۔ فیملی نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر وزیر داخلہ سندھ سے رابطہ کیا۔ ابھی تک فیصلے کی نقول متاثرہ خاندان کو نہیں ملی۔

جبران ناصر نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلی سندھ کو خط میں کیس کی نگرانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اگر موجودہ کمیٹی تحقیقات میں ناکام ہوتی ہے تو دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل کیے جانے چاہیے جوڈیشل کمیشن فائنڈنگز دے سکتی ہے وہ رپورٹ چالان کا حصہ نہیں ہوتی شواہد کیوں ضائع ہوئے ہمیں اس کا جواب چاہیے مرضی سے سلیکٹو سی سی ٹی وی جاری کرکے خودکشی کا بیانیہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی او آر ہمارے سامنے نہیں ہیں قتل کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن نہیں کرسکتا، جوڈیشل کمیشن صرف اہم کیسز کی تحقیقات کرسکتا ہے، سندھ حکومت کے فیصلے اور جے آئی ٹی کے لئے درخواست دائر کررہے ہیں۔ مجسٹریٹ کے سامنے تفتیشی افسر نے مزید وقت مانگا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ابھی تک کسی کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔ نئی کمیٹی 15 روز بھی کلیو لیس ہے۔ اب جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت نوٹیفکیشن تک شیئر نہیں کررہی۔ ہمیں میڈیا سے کیس کی اپڈیٹ مل رہی ہیں۔ اب تک کیس خراب کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

جبران ناصر نے کہا کہ تحقیقات میں یا تو قابلیت کی کمی یا چاہتے ہی نہیں ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کو بھی یہی افسران اسسٹ کریں گے۔ پولیس کی نااہلی پر جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ جے آئی ٹی سے کسی کو خدشات نہیں ہونے چاہیئے۔ ہم سے سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں شیئر کی گئی۔ 25 دن بعد اب کہہ رہے ہیں کہ کیمرے خراب ہیں۔ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی گاڑیوں کی جانچ نہیں کی گئی۔