صوبوں کی تقسیم سے بداعتمادی بڑھے گی، پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، فضل الرحمان

اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا ہے، اس صورتحال میں ہم سب کا اتفاق ہے، پریس کانفرنس


ویب ڈیسک August 24, 2026

جمیعت علما اسلام کے سربراہ اور متحدہ اپوزیشن کے رکن مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے بداعتمادی بڑھے گی، اپوزیشن کا اتفاق ہے کہ پاکستان اس تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے اراکین نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ جس میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، سینیٹ قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ناصر عباس، مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر موجود تھے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج گھٹن کے اس ماحول میں اس اسمبلی میں حزب اختلاف کے ممبران متفق ہوگئے ہیں، خوشی کا دن ہے مبارکباد کا دن ہے، یہ اتحاد پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا، 
خدا ہمیں ہمت دے ہم پاکستان کو اس صورتحال سے نکال سکیں۔

اپوزیشن اتحاد میں شامل سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ غریب روٹی اور روزگار کے لیے رو رہا ہے، حزب اختلاف کے بنچوں پر بیٹھنے والوں نے یہ فیصلہ کیا ہے جوائنٹ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، ملک میں امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آج ہم اکٹھے ہیں، ایک طرف ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے دوسری طرف ہمارے حکمران سرخ قالینوں پر چل رہے ہیں، امن و امان اگر خراب ہے تو ملک کی معیشت پوری طرح متاثر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے حوالے سے ہماری رینکنگ کیا ہے؟ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں ہے، تقسیم سے بداعتمادی بڑھے گی، اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا ہے، اس صورتحال میں ہم سب کا اتفاق ہے ریاستی سطح پر پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا اور سیاسی ماحول پیدا کرنا چاہیے، ان مطالبات پر آج پہلا قدم ہے اور آج ہم اس سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اس مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی، اس ماہ میں اپوزیشن کا متحد ہونا نیک شگون ہے، اس وقت لوگوں کے جان کی حفاظت نہیں ہورہی، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے، ہماری ناموس محفوظ نہیں ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد کی صورتحال سب کے سامنے ہے، بانی پی ٹی آئی کے لیے سپریم کورٹ کا آرڈر تھا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے مگر قانون اور عدلیہ کے فیصلوں کو پاؤں تلے روندنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج اپوزیشن جماعتوں کی ساڑھے تین گھنٹے میٹنگ ہوئی، تمام اتحادی جماعتوں نے اپنی تجاویز دیں کہ حکومت کو کیسے ٹف ٹائم دیا جائے، قومی اسمبلی و سینیٹ دونوں میں الگ الگ بات کرنے کی بجائے متحد ہو کر آواز بلند کی جائے گی، کوشش ہو گی کہ تمام قومی مسائل پر بات کریں، کشمیر، عدلیہ، معیشت، صوبوں کے مسائل، دہشت گردی اور اسیروں پر یکساں موقف اپنائیں گے، ہم نے مولانا کو اعتماد دیا ہے کہ ہم سب ایک ساتھ آگے چلیں گے۔