قومی اسمبلی کی ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکیٹیو حنا جاوید قتل کیس؛ گرفتار گھریلو ملازم کا اہم انکشاف

ایس ایس پی انوسٹی گیشن سیف اللّٰہ کی سربراہی میں خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش جاری ہے


صالح مغل August 26, 2026

راولپنڈی:

قومی اسمبلی کی ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکیٹیو حنا جاوید قتل کیس میں فیصل اصغر امام کے گھریلو ملازم نے تفتیش کے دوران مزید انکشاف بھی کر دیا۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن سیف اللّٰہ کی سربراہی میں خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم کی تفتیش جاری ہے۔

گھریلو ملازم ذیشان نے پولیس کو بتایا کہ فیصل اصغر نے واردات میں معاونت کے لیے رقم دینے کی لالچ بھی دی تھی۔ اس سے قبل بھی ذیشان مختلف انکشافات کر چکا ہے۔

پولیس نے گزشتہ روز تینوں ملزمان فیصل اصغر امام، اس کے والد اصغر فیاض امام اور ملازم ذیشان کو ڈی این اے اور پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور منتقل کیا تاہم گزشتہ روز پولیس نے تینوں ملزمان کے صرف ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سمپلز جمع کروائے۔

مقتولہ حنا جاوید کے والدین حیات ہیں اور دنوں ضیف ہیں۔ والدہ الزائیمر (بھولنے کی بیماری) جبکہ والد پارکنسنز (لرزش یا رعشہ طاری ہونے کی بیماری) میں مبتلا ہیں۔

گرفتار دو ملزمان حنا کے خاوند فیصل اصغر اور ملازم ذیشان کا تین روزہ ریمانڈ آج مکمل ہوگیا ہے۔ مقتولہ کے سسر اصغر فیاض کی گرفتاری التواء میں رکھ کر شامل تفتیش رکھا گیا ہے۔ پولیس آج دونوں ملزمان خاوند اور ملازم کو عدالت پیش کرکے مزید ریمانڈ کی استدعا کرے گی۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے مجموعی طور 19 شہادتیں اکھٹی کرکے پارسلز فرانزک سائنس ایجنسی بجھوائے ہیں، مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد اور گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی تھی۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور منتقلی کے دوران مقتولہ کے سسر نے بار بار مدعی مقدمہ اور لواحقین سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے کرنے نہ دی۔