وزیر اعظم کے زیر صدارت پمز میں اتشزدگی کے حوالے سے ہنگامی اجلاس ہوا جس میں واقعے پر شدید برہمی کا اظہار اور سخت ترین کارروائی کے احکامات دیے گئے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے سیکریٹری صحت کو معطل کرتے ہوئے اجلاس سے سے جانے کا کہا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعہ میں نومولود جاں بحق ہونے معصوم بچوں کے والدین سے دلی اظہار تعزیت کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے، والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائیں۔
وزیراعظم کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کیلئے قائم انکوائری کمیٹی تشکیل نے کام شروع کردیا، وزیراعظم نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی، سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔
دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان شامل ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا، وزارت صحت کے تمام حکام کو فوری وزیر اعظم ہاؤس طلب کیا گیا تھا۔
پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، اسپتال حکام نے تصدیق کردی۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوئیں جبکہ 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔
بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے، تاہم تحقیقات کے بعد اصل وجوہات سامنے آئیں گی، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ترجمان پمز اسپتال کے مطابق تمام بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دیں گئی ہیں۔