راولپنڈی:
قومی اسمبلی کی ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکیٹیو حنا جاوید قتل کیس میں ملزم شوہر سہیل اصغر امام اور ملازم ذیشان کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا جبکہ ملزم شوہر سہیل اصغر کمرہ عدالت میں پاگل ہونے کا ڈرامہ کرنے لگا جس پر ڈیوٹی جج نے ڈانٹ دیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈیوٹی سول جج رانا شاہ نواز خان نے مقدمے کی سماعت کی، مقتولہ مدعی کی طرف سے شاہ خاور ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ دونوں ملزمان کو کڑے پہرے میں سول لائن سے عدالت لایا گیا۔
عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کرتے ہوئے حکم دیا کہ مقدمے کی تفتیش بروقت جلد مکمل کر کے چالان پیش کیا جائے۔ دونوں ملزمان کے فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ بھی مکمل کر لیے گئے۔
مقتولہ کے بھائی رشتہ دار بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی، ڈی این اے رپورٹ ملتے ہی چالان تیار ہوگا۔
دونوں ملزمان پہلے بھی 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل کر چکے ہیں، مقتولہ کا سسر شریک ملزم اصغر علی بھی شامل تفتیش ہوگیا۔ مقتولہ کے سسر نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کر دیا، سسر ریٹائرڈ اعلی افسر ہے۔
مقتولہ کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم پولیس تفتیش سے مطمئن ہیں، پولیس سے مکمل تعاون کریں گے اور انصاف توقع ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کو گزشتہ ہفتہ شوہر نے ملازم ذیشان کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ مقتولہ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے جبکہ منہ میں کپڑا، گلے میں تار اور لاش واش روم کے شاور سے بندھی لٹک رہی تھی۔