وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے یا کسی نئے معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کی تصدیق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کی۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ محسوس نہ کرلیں کہ ایران بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے میز پر آنے کو تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران پر فوجی کارروائی کے بعد اب اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کرلی ہے جبکہ صدر کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب قطر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی راستہ بحال کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے جمعرات کو تہران کا دورہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
قطر کی کوششوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
قطر اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کرچکا ہے۔
قطری اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے اور آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ اقتصادی دباؤ بھی تیز کردیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے رواں ہفتے مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ مالی روابط ختم کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے پابندیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ثانوی پابندیوں کا عندیہ دیا تھا۔
ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ایران کے خلاف مکمل اقتصادی جنگ قرار دیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود وہ اپنے قومی مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ ایران اور عمان بھی آبنائے ہرمز کے لیے عارضی بحری راہداری اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس راستے کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں جبکہ ایران اور عمان کے درمیان سفارتی مذاکرات بدستور جاری ہیں۔