میر رضا قتل؛ خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، دوران تحقیقات کسی سے ملاقات نہیں کرونگا، جسٹس عمرسیال

جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی کارروائی سب کے سامنے ہوگی اور کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی، جسٹس عمر سیال


ناصر بٹ August 28, 2026

کراچی:

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے باقاعدہ کارروائی شروع کر دی۔

کمیشن نے اہلخانہ کو یقین دہانی کروائی کہ کارروائی کھلے عام ہوگی، کسی کے ڈر کے بغیر حقائق سامنے لائے جائیں گے اور پولیس تفتیش میں ممکنہ غفلت اور نقائص کا جائزہ لیا جائے گا،  وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، میں کمیشن کی مدت کے دوران کسی سے نہیں ملوں گا، وزیر اعلی سندھ بھی ملنے آئے تو نہیں ملوں گا۔

کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں، لاش دیکھنے والے نرسری ملازمین، ایمبولینس ڈرائیور اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو طلب کرلیا جبکہ سندھ حکومت کو تمام اصل دستاویزات، میڈیکل رپورٹ، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

جوڈیشل کمیشن نے عوام سے شواہد اور معلومات حاصل کرنے کے لیے اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار دینے اور اطلاع فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی۔

میر رضا قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل کمیشن کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے میر رضا کے ورثاء کو طلب کیا گیا۔ میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ جبران ناصر ایڈووکیٹ کو بھی روسٹرم پر طلب کر لیا گیا۔ کمیشن نے میر رضا کے لیے دعائے مغفرت کی۔

جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ سب سے پہلے آپ سے تعزیت کرتا ہوں۔ بہیمانہ طریقے سے آپ کا بچہ آپ سے چھینا گیا۔ 10 برسوں سے قتل کیسز چلا رہا ہوں، اہلخانہ کی تکلیف کا احساس ہے۔ آپ کو کیس کے کلوژر کی ضرورت ہے۔

کمیشن نے فوکل پرسن سندھ حکومت کو بھی روسٹرم پر بلا لیا۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کا کمیشن کو بنانے کا مقصد بھی اس واقعے کی بہتر تحقیقات کرنا ہے۔ کمیشن کی کوشش ہوگی کہ اعتماد کو بہتر بنایا جائے، ہم پر بھروسہ رکھیے۔ آپ مجھے تھوڑا سن لیں گے تو میرے لیے آسانی ہو جائے گی۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کے حوالے سے یہ دیکھا گیا کہ اس کی رپورٹ پبلک نہیں ہوتی۔ آخری مرتبہ میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کی رپورٹ پبلک ہوئی تھی۔ میرے لیے یہ صرف میر رضا کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سے میر رضا جیسوں کے لیے ہے۔ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ کا معاملہ ہائی لائیٹ ہوگیا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ایک ٹی او آر ہے کہ آپ لوگ تجاویز دیں۔ آپ لوگ نشاندہی کریں کہ کوئی کوتاہی ہو رہی ہے۔  ہم اپنے ادارے کی عزت کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان اداروں پر آپ لوگوں کا اعتماد کتنا ہے۔ میری کوشش ہوگی حقائق سامنے لاؤں۔ جوڈیشل کمیشن میں جو ہوگا، سب کے سامنے ہوگا، کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی۔ جو شخص چاہے کمیشن میں آکر کارروائی دیکھ سکتا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ 19 اگست کو آپ کے وکیل نے ویر اعلیٰ سندھ کو خط لکھا۔ جبران ناصر ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 22 اگست کو سندھ حکومت نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھا۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کی تنقید بجا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں جو ہوگا سب کے سامنے ہوگا۔ اب تک جو ہوتا آیا ہے وہ بند کمروں میں ہوتا رہا۔ کمیشن کی کوشش ہوگی کہ آپ کے سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں۔ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں فرق ہوتا ہے۔ کمیشن ٹی او آرز کے مطابق تحقیقات میں نقائص، پولیس کارکردگی، غفلت کا جائزہ لے گا۔ کیس کی تحقیقات کمیشن نہیں کرے گا، نہ وزیر اعلیٰ تحقیقات کر سکتے ہیں۔ ہم صرف غلطیوں کی نشاندہی کریں گے۔ آپ نے جو درخواست دائر کی ہے اس کا کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ درخواست اپنی جگہ چلتی رہے گی۔

میر حسن نے کہا کہ ہمیں انویسٹی گیشن پر اعتماد نہیں۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ کمیشن سب کے لیے کھلا ہے۔ جوڈیشل کمیشن روایتی کمیشن کی طرح نہیں چلائیں گے۔ وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے۔ میں کمیشن کی مدت کے دوران کسی سے نہیں ملوں گا۔ میرے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ بھی ملنے آئے تو نہیں ملوں گا۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ سمجھتا ہوں یہ معاملہ صرف میر رضا کا نہیں ہے۔عزت سے زندگی چلانے والے تمام میر رضا کا معاملہ ہے۔ چاہتے ہیں کسی اور میر رضا کے ساتھ ایسا نا ہو۔ ہم اپنی کارروائی مکمل کرکے تجاویز دینگے۔ امید ہے کارروائی کے دوران سرکاری محکموں کے وقار کا خیال رکھا جائے گا۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ کیا اہل خانہ کا کمیشن پر اعتماد ہے؟ مقتول کے والد نے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ میر رضا 28 جولائی 4 بجے گھر سے روانہ ہوا۔ 4 بج کے 38 منٹ پر میر رضا آخری بار سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا۔ میر رضا کی لاش 19 جولائی کو 11:52 پر نرسری والے یاسر اور قیصر نے دیکھی۔ پولیس موقع پر 12:25 پر پہنچی، 12:42 پر موبائل پہنچی۔ ساڑھے 11 سے ڈیڑھ بجے کے دوران کوئی پولیس افسر وہاں آیا۔ سوا 12 بجے 2 پولیس والے وہاں آئے انکے نام نہیں بتائے گئے۔

انہوں نے موقف دیا کہ ایک بج کر 15 منٹ پر ریسکیو ادارے کی ایمبولنس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ والد نے جناح اسپتال میں میر رضا کی شناخت کی۔ ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کیا۔ لاش ملنے سے قبل اغوا کا مقدمہ درج ہو چکا تھا۔ لاش ملنے کے سی سی ٹی وی اہلخانہ کو دکھائی گئی۔ اس سے پہلے کی سی سی ٹی وی نہیں دکھائی گئی۔

کمیشن نے استفسار کیا کہ پوسٹ مارٹم کس نے کیا تھا؟ جبران ناصر ایڈووکیٹ نے موقف میں کہا کہ ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ بچے کی گمشدگی کا مقدمہ 28 جولائی کو سوا 3 بجے درج ہوگیا تھا۔ جے پی ایم سی میں کوئی پولیس افسر تھا، اے ایس آئی ندیم کو میر رضا کے کپڑے وغیرہ دیے گئے تھے۔ اس وقت نئی انوسٹیگیشن ٹیم بنی تھی، ہم نے کہا اس کو کام کرنے دیا جائے۔ پچھلی والی انوسٹیگیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کی ہے۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا اخبار میں اشتہار دے، اگر عوام کے پاس معلومات ہیں تو شیئر کی جائیں۔ ایڈیشنل سیکریٹری صاحب اس حوالے سے آپ کو تحریری طور بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔ معلومات سے متعلق اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع کروایا جائے۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کو کہا جائے گا کہ معلومات دینے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام رکھا جائے۔ سندھ حکومت پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ گواہاں کے بیانات، میڈیکل رپورٹ، اصل دستاویزات بھی پیش کی جائیں۔ کمیشن کے رجسٹرار کو جو سہولیات درکار ہیں فراہم کی جائیں۔

جبران ناصر نے موقف اپنایا کہ کل رات اہلخانہ کی مدد کرنے والے 20 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ آپ نے شارع فیصل پر کھڑے ہوکر جسٹس فار رضا کے نعرے کیوں لگائے۔ میں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ پرانی انوسٹیگیشن ٹیم کی مجرمانہ غفلت دیکھی جائے۔ ہمیں کسی گواہ کے بیان کی کاپی نہیں ملی ہے۔

وکیل نے موقف دیا کہ کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں اور ڈیڈ باڈی دیکھنے والے 2 نرسری کے ملازمین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا اس کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ مسجد خضراء کے کیمرے کی فوٹیج دیکھائی گئی ہے تاہم پوری فوٹیج نہیں دی گئی۔ کمیشن نے جائے وقوعہ پر پہچنے والی پہلی پولیس موبائل اور ڈیڈ باڈی شفٹ کرنے والے ایمبولینس ڈرائیور محسن اور جاوید کو بھی طلب کرلیا۔ کمیشن نے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔

جسٹس عمر سیال نے والد سے استفسار کیا کہ میر حسین صاحب پہلے تین دن آپ نے کیا دیکھا؟ صرف اس حوالے سے بتایئے گا۔ سندھ حکومت کل تک تمام دستاویزات فراہم کریں تاکہ دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے۔

جسٹس عمر سیال نے ایڈیشنل سیکریٹری سے مکالمہ میں کہا کہ ڈی ایس پی سراج لاشاری جو تفتیشی افسر ہے کیا وہ کمیشن کی معاونت کر سکتے ہیں پوچھ کر بتایا جائے۔ انوسٹی گیشن اہم ہے لیکن اگر سراج لاشاری آسکیں تو ہم ان سے انوسٹیگیشن سے متعلق پوچھ سکیں گے۔ عدالت نے مزید سماعت یکم ستمبر 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

وکیل جبران ناصر کی گفتگو

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہلخانہ کی جانب سے میر رضا کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ نوجوان میر رضا کے والدین کے لیے طاقت کا سبب ہیں اور قاتلوں کے بے نقاب ہونے تک مزاحمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مقدمے میں نامزد تمام نوجوان ہماری مدد کر رہے تھے، جبکہ ہم نوجوان وکلا کے بھی شکر گزار ہیں جو ان نوجوانوں کی ضمانت کے لیے قانونی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

جبران ناصر نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے شفافیت کے لیے کارروائی اوپن رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی کو بھی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قاتلوں کو گرفتار کرنا اور چالان تیار کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، جبکہ کمیشن فیکٹ فائنڈنگ اور تفتیش میں ہونے والی کوتاہیوں کا جائزہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن پولیس افسران نے کیس کو برباد کیا، سندھ حکومت نے ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی۔

وکیل نے کہا کہ قاتلوں کی پشت پناہی چاہے کسی طاقتور طبقے کی جانب سے ہو، اہلخانہ کی مزاحمت جاری رہے گی۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کی جانب سے کارروائی پبلک کرنا خوش آئند ہے، اس سے شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ اگر کمیشن پولیس افسران کی کوتاہیوں اور ان کے اقدامات کو سامنے لے آئے اور ان کے خلاف کارروائی ہو تو اہلخانہ کو اطمینان ہوگا۔

جبران ناصر کے مطابق اہلخانہ کا اولین مطالبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل ہے۔ ایسے کیسز میں عدالتی مداخلت کے بعد جے آئی ٹی بننی چاہیے۔ اگر تفتیش مختلف اداروں کو منتقل ہوتی ہے تو اس سے کیس کی تحقیقات اور جوڈیشل کمیشن دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اہلخانہ کو پولیس پر اعتماد تھا، اسی لیے مقدمہ درج کروایا اور بیانات ریکارڈ کرائے، جبکہ قبر کشائی اور جے آئی ٹی کے لیے بھی عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کارروائی پولیس کی طرح نہیں ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی گئی شکایت اور وہاں جمع کرائی گئی دستاویزات سے بھی کمیشن کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ کمیشن سے درخواست کی جائے گی کہ کیس اور شواہد کو نقصان پہنچانے والے افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔

جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی پہلے دن سے کوشش ہے کہ مظاہرین کو خاموش کروایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے مظلوم کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی میڈیا کے سامنے ہونا خوش آئند ہے اور شہر کی عوام کے تعاون کی وجہ سے اہلخانہ اس مقام تک پہنچ سکے ہیں۔

جبران ناصر نے میڈیا سے اپیل کی کہ میر رضا کیس میں ذرائع کے حوالے سے ایسی خبریں نشر نہ کی جائیں جن سے خاندان کی نجی معلومات بار بار سامنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کا روز بہ روز قتل ہو رہا ہے، کیونکہ اس سے متعلق معلومات بار بار میڈیا کے سامنے لائی جارہی ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے تک جاری کی گئی معلومات کا بھی حوالہ دیا۔

وکیل نے مزید کہا کہ پرانی تفتیشی ٹیم نے شواہد کو تباہ کیا اور ان لوگوں کی معاونت اب بھی کی جارہی ہے۔ کمیشن کو یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ تفتیشی ٹیم نے کس طرح کام کیا اور پولیس افسران نے کیس سے متعلق ماضی میں کیا بیانات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی فوٹیج اہلخانہ کے ساتھ شیئر کی جائیں تو وہ اپنے تحفظات اور شکوک کمیشن کے سامنے پیش کرسکیں گے۔