مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں 30 ووٹ حاصل کرکے ریاست کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا، اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے بغیر ادھورے اور نامکمل ہیں، کشمیر میں اسی طرح تبدیلی لائیں گے جیسے پنجاب میں مریم نواز لائی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق انتخابی عمل کے دوران پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار خان صرف 14 ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے کل 32 اراکین موجود ہیں جبکہ 7 نشستوں پر تاحال انتخابات کا عمل مکمل ہونا باقی ہے۔
یاد رہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی اس سے قبل وزیر تعلیم کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔
بیرسٹر افتخار گیلانی پہلی بار 2011 میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ موجودہ اسمبلی میں وہ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے ذریعے کامیابی حاصل کر کے ایوان میں پہنچے تھے۔
اُن کی نامزدگی پر پارٹی قیادت نے گزشتہ اہم اجلاس میں مہر ثبت کی تھی۔
حکومت سازی کے لیے منعقدہ اس اہم مشاورتی اجلاس میں رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر نے شرکت کی۔ اجلاس میں نومنتخب اسپیکر چوہدری طارق فاروق اور ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری سمیت دیگر اعلیٰ قیادت نے بیرسٹر افتخار گیلانی کے نام پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کا قانون ساز اسمبلی سے پہلا خطاب
بیرسٹر افتخار گیلانی نے قانون ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور مریم نواز کا شکر گزار ہوں، کشمیر زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے، 5
اگست 2019ء کے بھارتی اقدام اور کشمیریوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے بغیر ادھورے اور نامکمل ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے کشمیری سکون کی نیند سوتے ہیں، کشمیر میں بھی اسی طرح تبدیلی لائیں گے جیسے پنجاب میں مریم نواز لائی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرٹ پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنائیں گے، ریکروٹمنٹ کے لئے این ٹی ایس کی طرز پر تھرڈ پارٹی سسٹم متعارف کروائیں گے، ہر شخص کو سرکاری ملازمت نہیں دی جا سکتی، ریاست کو ڈیجیٹل اکانومی کی طرف لے کر جائیں گے، جانتا ہوں آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ نہیں ہے مگر چیزیں بتدریج بہتری کی طرف جائیں گی، محکمہ صحت اور تعلیم میں اصلاحات لائیں گے، عوامی شکایات کے اندراج کیلئے سیٹیزن پورٹل لانچ کریں گے،جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کشمیر کا روشن مستقبل ہماری اگلی منزل ہے۔