سانحہ پمز اسلام آباد، کہیں پہ 14، کہیں 15اور کہیں 16۔ ایسے نونہالوں کی جلی کٹی لاشیں جن کی نہ آنکھیں ابھی کھلیں، نہ ہی آزاد فضا کا پہلا سانس لے پائے۔
آزاد فضاء؟ جی ایسا ہی ہے۔ کیو ں کہ جو لوگ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ وہاں دروازوں پر زنجیریں لپٹی دکھائی دیتی ہیں، لیکن شاید میں نے غلط کہا ہے، کیوں کہ زنجیروں سے دروازے نہیں جکڑے گئے بلکہ دلوں پہ جو قُفل ہیں جن پہ اتنی موٹی زنجیریں ہیں کہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔
ان زنجیروں میں بھونچال اس وقت آتا ہے جب کوئی اپنا مشقِ ستم بنتا ہے اور دل دہلتے تب ہیں جب کسی اپنے کی لاش جلتی ہے۔
یہ 14-15 نونہال تو بھلا تھے ہی کیا کہ جس کا غم منایا جاتا۔ یہ تو کسی ریڑھی بان، کسی مزدور، کسی دفتر کے عام سے ملازم، کسی چھوٹے سے کاروباری یا کسی فلاحی ادارے سے ریفرل پا کر پہنچنے والے لوگ تھے۔
وہ وفاق کے 140 ایکٹر پر پھیلے اس ذبح خانے میں اس امید پر آ پہنچے کہ شاید اس کے در و دیوار پر جو ھوالشافی لکھا ہوا ہے اس پر عمل بھی ہو رہا ہے۔ جتنا آپ کو الفاظ ’ذبح خانہ‘ پڑھ کر دُکھ ہو رہا ہے، اس سے زیادہ دُکھ اور افسوس راقم الحروف کو لکھتے ہوئے ہوا ہو گا، لیکن ہم صرف الفاظ ہی کا سہارا لے سکتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے نہیں کہ جس سے حالات پلک جھپکتے میں ٹھیک کیے جا سکیں اور جن کے پاس جادو کی یہ چھڑی ہے ان کی شاید ترجیحات بہت مختلف ہیں۔
آگ میں لی گئی ان نونہالوں کی پہلی سانس کا قرض ہمیں محشر میں کم از کم اتارنا پڑے گا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز جس جگہ واقع ہے اس کو اسلام آباد کا دل کہا جانا اس لیے بہترین مشابہت ہے کیوں کہ یہاں تک پورے اسلام آباد سے پہنچنا نہایت آسان ہے۔ راولپنڈی، چکوال، اٹک، جہلم، مری، خیبر پخوانخوا، آزاد کشمیر اور دیگر کئی علاقے ایسے ہیں کہ جو اس ادارے پہ انحصار کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایک توجیح یہ بھی ضرور پیش کی جاتی ہے کہ اس اسپتال پر بوجھ بہت زیادہ ہے، لیکن جو ہم کل سے 20سے22ارب کی رقم سالانہ کا سن رہے ہیں اگر پمز کے موجودہ رقبے پر ہی اس سے آدھی رقم سالانہ بھی لگنا شروع ہو جاتی تو پمز کے خالی رقبے پہ ہی شاید اتنا انفرا اسٹرکچر بن سکتا تھا کہ یہ اسپتال موجودہ سے دو گناز یادہ علاقوں کے لوگوں کو آسانی سے سہولت دے سکتا ہے، لیکن بات صرف ایک ہے کہ ترجیحات مختلف ہیں۔
راقم الحراف کے الفاظ نشتر جیسے اس لیے بھی قارئین کو محسوس ہو رہے ہوں گے کہ اس ادارے کی گم شدہ عظمت و معیار کے ہم عینی شاہد ہیں۔ JICA ایک جاپان کا امدادی ادارہ ہے یعنی Japan International Cooperation Agency۔ برسوں پہلے ہمارے بچپن میں اس جاپانی ایجنسی کی 2 ورکرز، میکو اور ناکو (نام شاید یہی تھے)سے مراسم کچھ ایسے ہوئے کہ جیسے وہ خاندان کا حصہ بن گئیں۔ وہ شاید اس وقت پاکستان میں اِسی ماں اور بچے کی نگہداشت کے حصے یعنی MCH کی تعمیر و توسیع کے لیے موجود تھیں جس میں آگ نے کم و بیش 15نونہال نگل لیے۔
ہمارے گاؤں اور گھر میں وہ بہت خلوص سے مختلف فنکشنز اور واقعات میں شامل رہیں۔ ناکواردو کیوں کہ بول پاتی تھیں تو ان سے ہم پوچھتے تھے کہ آپ پاکستان کیوں آئی ہیں، تو مسکرا کر کہتی کہ ہم یہاں اسپتال بنانے آئے ہیں اور سوال در سوال پہ کہتیں کہ ہم پاکستانیوں کی مدد کر رہے ہیں اور خاص طور پر بچوں کی صحت کے حوالے سے مد کر رہے ہیں۔
مگر جاپانی حکومت اور عوام شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ تو مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم پاکستانی خود اپنی مدد نہیں کرنا چاہتے۔
اِسی دور میں پمز کے اس نو تعمیر شدہ حصے کی طرف آنا جانا بھی ہوا تو عقل دنگ رہ گئی کہ جاپانی عوام کی جانب سے یہ پاکستان کے لیے کتنا شاندار تحفہ ہے۔ مشہور برطانوی آرکیٹیکٹ سے منسوب فرم کی جانب سے ڈیزائن بنتے وقت اس فرم نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ بچے جل رہے ہوں گے اور ہنگامی راستے کے لیے سیڑھی لگا کر جالیاں توڑی جا رہی ہوں گی۔کیوں کہ انہوں نے تو باقاعدہ ہنگامی راستے ڈیزائن کیے تھے، جن پہ یا تو آج زنگ آلود تالے ہیں یا پھر قید خانے جیسی زنجیریں۔
یاد رکھیے گا کہ ہنگامی راستے موجود ہیں، لیکن اکثر ایسے راستوں پر زنجیریں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ صرف لفاظی نہیں ہے بلکہ ایک طویل عرصے کی پمز اسپتال سے مختلف اوقات میں رفاقت رہی ہے۔
60ء کی دہائی میں اسپتال کے ڈیزائن اور 80ء کی دہائی میں تعمیراتی کام شروع ہونے اور 80ء کی دہائی میں ہی جائیکا کی مدد سے ماں اور بچے کی نگہداشت کے شعبہ جات بننے اور پھر90ء کی دہائی میں اور کسی حد تک 2003-05تک اس اسپتال کی حالت زار کا خود راقم الحروف عینی شاہد رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح بہترین چلتے رہے۔
یایوں کہہ لیجیے کہ 90ء کی دہائی سے اس اسپتال میں انتظامات، اختیارات اور سرکاری معاملات کی ایسی کھینچا تانی شروع ہوئی کہ یہ اسپتال ہر گزرتے دن کے ساتھ تنزلی کی طرف جانا شروع ہو گیا۔
پرائیویٹائزیشن کا ناسور نہ جانے کتنے ادارے چاٹ گیا، لیکن دوسری طرف ادارے کے ملازمین نے بھی اداروں کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جاپانیوں کی طرف سے مہیا کیے گئے آٹو میٹک دروازے بند ہوئے، ساتھ عارضی کھڑکیاں کھلنا شروع ہو گئیں۔ خوبصورت لان ٹھیکے پہ دے کر کھوکھے بننے لگے۔
اسپتال کی مرکزی بلڈنگ سے تھوڑے فاصلے پر ہاسٹل اور گراؤنڈز سے قریبی آبادیاں راستے بنانے لگیں۔ سبز نمبر پلیٹوں کی تعداد بڑھتی گئی اور اسپتال کی سہولیات کم ہوتی گئیں۔ بہترین انتظامات سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں خاکی قمیص شلوار میں ملبوس سیکیورٹی اسٹاف کو لوگوں سے پھر بدتمیزی کرتے بھی دیکھا۔
لان کی گھاس کی جگہ مٹی کے میدان بننا شروع ہو گئے، کیوں کہ معاملات شاید جاپانیوں سے پاکستان تک منتقل ہونا شروع ہو چکے ہوں گے۔ ہاں لیکن اس پورے قصے میں اسپتال کی مرکزی ایمرجنسی کے عقب میں ایک وارڈ بالکل تبدیل نہ ہوا اور اس وارڈ میں وہی آٹو میٹک دروزے، صفائی بہترین، اسٹاف مستعد، ڈاکٹرز خوش اخلاق، چاک و چوبند سیکیورٹی سٹاف اور یہ ہے پمز اسپتال کا وی وی آئی پی وارڈ جس جانب عوام کو بھٹکنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یعنی نوگو ایریا فار پاکی عوام۔
ماں اور بچے کا اسپتال یعنی MCH یہاں کاذاتی تجربہ بھی راقم الحروف کو رہا۔ عالمی معیارات کے مطابق صرف بلڈنگ بنی اور بننے کے بعد پاکستانیوں کے ہتھے چڑھ گئی اور پاکستانیوں نے اس کے ساتھ وہی کیا جو گلی میں کچھوا آ جائے تو بچے اُس کے ساتھ کرتے ہیں۔
کرختگی ایک نمایاں پہلو ہے اس شعبے کا جہاں لوگ پریشانی میں آتے ہیں، امیدوں کے ساتھ۔ مقصد تنقید نہیں لیکن شاید اکثریت اتفاق کرے کہ ایک چائے کا کپ، چند روپے، ایک سگریٹ، یا کہیں سے ہلکا پھلکا فون، یہی کچھ عوامل ہیں جن کی مدد سے کچھ سہولت مل سکتی، ورنہ کرختگی کے لیے تیار رہیں۔
پمز میں جو کچھ ہوا شاید آپ کو کچھ حد تک آنے والے دنوں میں وہاں حالات مختلف ہی نظر آ جائیں لیکن آپ اس تحریر کے الفاظ کی صداقت کے لیے کسی بھی دوسرے سرکاری اسپتال کا ایک دورہ رکھ لیجیے اور وہاں کے حالات دیکھ لیجیے۔ آپ ان الفاظ سے من و عن متفق ہوں گے کہ پاکستان کے سرکاری اسپتال کسی نہ کسی حادثے کے منتظر ہوتے ہیں کہ جس کے بعد وہ کچھ ماہ کے لیے بہتر ہو جاتے ہیں لیکن عمومی طور پر حالات تبدیل نہیں ہوتے۔
مصطفی کمال صاحب کا بیان انتہائی خوبصورت، بہترین اور حالات کی نزاکت کے تمام پہلوؤں کے مد نظر ہے کہ سرکاری اسپتال میں کبھی بھی سہولیات کسی پرائیویٹ اسپتال جتنی نہیں ہو سکتیں۔ان کے اس بیان کے بعد احساس ہوا کہ یقینا وہ اس کرسی کے اہل ہیں اس میں کوئی شک نہیں کیوں کہ وطن عزیز میں تو قابلیت ہی یہی ہے کہ یہاں ہر شاخ پہ۔۔۔بیٹھا ہے۔ کاش ہم خالی جگہ بھی پُر کر سکتے۔
مصطفی کمال صاحب اتنا بتانا گوارا کر لیں کہ اربوں روپے سالانہ بجٹ کے بعد بھی اگر اسلام آباد کے 2 اسپتالوں کا انتظام بہترین نہیں کر سکتے تو نئے صوبے بنا کر کون سا تیر مار لیں گے۔خیال و گمان تو یہ تھا کہ وہ ذمہ داری قبول کر کے لواحقین کی دادرسی کا سبب بنتے لیکن پاکستان کی سیاست کا طرہ ء امتیاز شاید ہٹ دھرمی ہی ہے، جو کہ وہ اپنائے ہوئے ہیں۔
بین ڈالتی ہوئی ماں کی دہائی کہ جب آگ لگی تو اسٹاف وہاں تھا ہی نہیں، ورنہ بچے بچائے جا سکتے تھے، تو اُس ماں سے اتنی سی درخواست ہے کہ بی بی یہ چین نہیں، جہاں زلزے کے دوران نرسری اسٹاف اپنی جان بچانے کے بجائے بچوں کے انکیوبیٹرز کو سنبھالتا دکھائی دیا تھا اور نہ ہی یہ جاپان ہے جہاں آپریشن کے دوران زلزلہ آنے کے بعد تمام آپریشن اسٹاف باہر بھاگ کر اپنی جان بچانے کے بجائے اسی مریض کی جان بچانے میں مصروف تھا جسے شاید آپریشن کے دوران ہوش بھی نہیں تھا۔
بی بی ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ تمہارے پہلی سانس بھی شاید پوری نہ لے پانے والے بچے کے لیے کچھ مذمتی بیانات داغ سکتے ہیں اور ہم بس اتنا کر سکتے ہیں کہ تمہارے اس نقصان پر صرف دعوے کر سکتے ہیں اور ہم شاید بس اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ اس المیے پر تمہارے ساتھ مل کر کچھ بین ڈال سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ تم ہم سے توقع نہ رکھنا کیوں کہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کے لیے غیرت، ہمت اور غلطی ماننے کی طاقت چاہیے ہوتی ہے جو شاید ہم میں نہیں۔
پاکستانی اشرافیہ کی یقیناً تعریف بنتی ہے کہ وہ انتہائی مستقل مزاج ہیں اور مستقل مزاجی سے، گزشتہ سے پیوستہ کے جیسے، تمام سانحات اور حادثات کی طرح مستقل مزاجی سے دُکھ اور افسوس کا لگا بندھا اظہار کرنا نہیں چھوڑا۔ نہ اقدامات بدلے، نہ پیٹرن بدلا اور یہی پاکستانی اشرافیہ کی کامیابی ہے۔
عوام کا کیا ہے، آج پہلا دن سانحے کا، پرسوں سوئم اور چہلم کے بعد ویسے ہی بھول بھال جاتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔