سی ٹی ڈی میں بھرتی کا کیس، سندھ ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

قانون میں مقررہ نمبر کم کرنے یا انہیں راؤنڈ آف کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، عدالت


کورٹ رپورٹر August 29, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے سی ٹی ڈی میں بھرتی کے امیدوار کی قوانین میں نرمی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون میں مقررہ نمبر کم کرنے یا انہیں راؤنڈ آف کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

درخواست گزار نعیم حسین شاہ کے وکیل نے بتایا کہ امیدوار نے 2017 میں تحریری امتحان اور جسمانی ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیے تھے، تاہم پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ امیدوار انٹرویو میں مقررہ کم از کم نمبر حاصل نہیں کرسکا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نعیم حسین شاہ کو انٹرویو میں صرف آدھے نمبر سے ناکام قرار دیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریری امتحان میں کم نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کی تقرری سے امتیازی سلوک کا تاثر ملتا ہے۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے کہا کہ بھرتی پالیسی میں مقررہ نمبر کم کرنے یا انہیں راؤنڈ آف کرنے کی گنجائش نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ وہ کسی امیدوار کے حق میں مقررہ معیار کو کم یا ختم نہیں کرسکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی ایک امیدوار کے لیے نرمی برتنا دیگر امیدواروں کے حقوق کو متاثر کرے گا۔ مزید یہ کہ قانونی دائرہ اختیار کو نئے قانونی حقوق پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر بدنیتی ثابت ہونے تک عدالت انٹرویو بورڈ کی رائے تبدیل نہیں کرسکتی۔ دیگر کم نمبر والے امیدواروں کی کامیابی بھی درخواست گزار کو نصف نمبر کی معافی دینے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

عدالت نے مزید کہا کہ بھرتی کا عمل 2016 میں ہوا تھا، جبکہ درخواست 9 برس بعد دائر کی گئی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے ان نکات کی بنیاد پر سی ٹی ڈی میں بھرتی کے امیدوار کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔