پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سی ڈی اے کا سارا دن یہ کام ہوتا ہے کہ کیسے لوگوں کو تنگ کیا جائے، اربوں روپے کے پلاٹ بیچ کر ریسٹورنٹس بنائے گئے تو اسپتال کیوں نہیں بن سکے۔
پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کیپیٹل ڈٰولپمنٹ اتھارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا سارا دن یہ کام ہوتا ہے کہ کیسے لوگوں کو تنگ کیا جائے، عوام کی زندگی سے متعلق چیزیں ان کی ترجیحات میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کو اپنی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کو ماڈل سٹی بناوں گا مگر صرف سڑکوں سے ماڈل سٹی نہیں بن سکتا۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اربوں کے پلاٹ بیچ کر ریسٹورنٹس بن سکتے ہیں تو اسپتال کیوں نہیں ؟۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ پمز جیسے نئے اسپتال بنائے جائیں، پمز اپنی فل کیپسٹی پر کام کر رہا ہے یہاں اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں سے بھی مریض آتے ہیں۔
پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات نے سی ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ جب ان کی اپنی کیپسٹی نہیں تو لوگوں کو یہ کیا کہیں گے؟ اسکولوں میں بڑی تعدا میں بچے ہوتے ہیں، اسکولز میں بچوں کا حال دیکھیں، سی ڈٰی اے کو ان معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد کو اداروں کا ہیڈ بنا دیا جاتا ہے، جہاں بھاگ دوڑ کی ضرورت وہاں ایسے لوگ لائیں جن میں کیپسٹی ہے اور شوق ہے۔