اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا سرمایہ متحرک کرنا ناگزیر ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے۔ نجی شعبے کے سرمایے کو متحرک کرنا معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری کا فروغ ممکن ہے، پائیدار معاشی استحکام کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ترجیح دی جائے گی۔ پی پی پیز کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نجی شعبے کو آگے لے جانے کا اہم ذریعہ ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔ معاشی استحکام مشکل فیصلوں کے نتیجے میں حاصل ہوا، اسے مستقل بنانا ہے۔ پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مجموعی خسارہ 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ایف بی آر کی آمدن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 40 فیصد اضافہ ہوا۔ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات گزشتہ مالی سال 4.6 ارب ڈالر رہیں۔ آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز نے 1.6 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔ اشیا کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر پر برقرار ہیں۔ اس شعبے میں مزید کام کرنا ہوگا،توانائی، سرکاری اداروں، ٹیکس اور نجکاری کے شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں۔