اسلام آباد ہائی کورٹ: پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف کیس میں وفاق اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری

فریقین کو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ اور پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت 


ویب ڈیسک September 05, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف کیس میں وفاق اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

عدالت نے فریقین کو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ اور پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے   تحریری دلائل ریکارڈ پر لانے سے متعلق متفرق درخواست بھی منظور کرلی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

پیپلز یونٹی نے پی آئی اے کی 23 دسمبر 2025 کی بولی اور عارف حبیب کنسورشیم کو کامیاب قرار دینے کا اقدام چیلنج کر رکھا ہے، درخواست میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور وفاقی کابینہ کی دسمبر 2025 کی منظوریوں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق پی آئی اے سی کنورژن ایکٹ 2016 کے تحت قانون کی مدت 30 جون 2025 کو ختم ہو چکی تھی، وفاقی حکومت نے ایکٹ کی مدت میں توسیع کا گزٹ نوٹیفکیشن 6 مارچ 2026 کو جاری کیا، ایکٹ ختم ہونے اور نوٹیفکیشن کے درمیانی عرصے میں کی گئی تمام کارروائیاں اور بولی غیر قانونی ہیں۔

 درخواست گزار نے کہا کہ نجکاری کے لیے تازہ ترین ویلیوایشن کے بجائے 2015 کی پرانی ویلیوایشن کا سہارا لیا گیا، پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کے تحت پی آئی اے کے ملازمین ادارے میں 12 فیصد شیئرز کے مالک ہیں، ملازمین جیسے اہم اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کیے بغیر نجی کاری کا عمل مکمل کیا گیا۔

 درخواست گزار نے کہا کہ حکومت کو ملازمین کی ملکیت والے شیئرز کی منتقلی کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، نجکاری کمیشن آرڈیننس 2002 کے سیکشن 23 کے تحت ضروری نوٹس شائع نہیں کیا گیا، کنسورشیم کا حصہ بننے والی ایک کمپنی نے پہلے بولی میں حصہ لے کر بعد میں دستبرداری اختیار کی، دستبردار ہونے والی کمپنی نے بعد میں اسی کنسورشیم میں شامل ہو کر بغیر بولی کے شیئرز حاصل کر لیے، بولی کے اس طریقہ کار نے مسابقتی عمل اور دباؤ کو ختم کر دیا۔

 درخواست گزار نے کہا کہ کنسورشیم اور دستبردار ہونے والی کمپنی کے درمیان معاہدہ غیر قانونی ہے جس کی اجازت رقابتی قانون کے تحت نہیں دی جا سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت اکتوبر 2026 کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔