پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی وزیر کے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے بیان پر اظہار مذمت

مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر کرنے کی عملی کوششیں خطے میں سنگین نتائج کا باعث ہوں گی


ویب ڈیسک September 06, 2026

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ سمیت 8 اسلامی ممالک نے اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کوشش سنگین نتائج کا باعث ہوگی۔

ترک وزارت خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے جبری بے دخل کرنے کے منصوبوں اور طریقوں کی تجاویز کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے شرانگیز بیانات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فلسطین کے عوام کے حقوق کے لیے خطرہ ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات اور منصوبے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جس میں بین الاقوامی انسانی قانون بھی شامل ہے اور اس سے فلسطین کے عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

پاکستان سمیت 8 مسلمان ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینیوں کی بے دخلی کی کوشش یا منصوبوں کو یکسر مسترد اور اس کی مذمت کرتے ہیں چاہے یہ مقبوضہ فلسطینی اتھارٹی کی اندرونی سطح پر ہو یا بیرونی سطح پر ہو ہر صورت میں قابل مذمت ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کا بیان سرکاری پالیسی بنانے یا فلسطینیوں کو باہر کرنے کے لیے عملی کوششیں خطے میں سنگین نتائج کا باعث ہوں گی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے امن کے حصول کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سمیت بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تمام کوششوں کو براہ راست خطرہ ہوگا، ان کوششوں میں جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کردیا گیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ مقبوضہ فلسطین کا مکمل اور ناقبل تقسیم جز ہے اور مطالبہ کیا کہ غزہ بھر میں اور مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں فلسطینی وحدت کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

مسلمان ممالک نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پائیدار امن کے لیے واحد راستہ دو ریاستی حل ہے، جس کو متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مشترکہ بیان میں عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی آبادیاں یا جغرافیائی صورت حال قائم کرنے کی کوششوں کو روکا جائے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت اہم اسلامی ممالک نے فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ اور فلسطینیوں کو ختم کرنے کی کوششیں یا فلسطین کے عوام کے جائز حقوق کو غصب کرنے کی کوششوں کو مسترد کردیا۔