میر رضا جوڈیشل کمیشن: مقتول کے دوستوں ہیثم اور رزاق کے بیانات ریکارڈ

جسٹس عمر سیال پر مشتمل کمیشن نے معاملے کی سماعت کی


ویب ڈیسک September 07, 2026

کراچی:

میر رضا کیس میں بنائے گئے جوڈیشل کمیشن نے مقتول کے دوستوں ہیثم اور رزاق کے بیانات ریکارڈ کرلیے۔

جسٹس عمر سیال پر مشتمل کمیشن میں معاملے پر سماعت جاری ہے، کمیشن نے میررضا کے دوست محمد ہیثم سے سوال کیا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ محمد ہیثم نے اپنے جواب میں کہا کہ میں سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتا ہوں جو میری سورس آف انکم ہے، میر رضا میرے اسکول کا 2014 سے دوست ہے، ہماری آخری ملاقات پیڈل کوٹ میں 27 جولائی کو رات 3 بجے ہوئی۔

کمیشن نے ہیثم سے پوچھا کہ آپ کی آخری بار میر رضا سے بات کب ہوئی تھی؟ جس پر اُس نے کہا کہ میری 28 جولائی رات ایک بجے ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی؟ کمیشن نے پوچھا آپ کو رضا کی گمشدگی کا کیسے پتا چلا؟ ہیثم نے بتایا مجھے اس کی منگیتر سلوا کی کال آئی تھی، وہ گھبرائی ہوئی تھی، اس نے پوچھا رضا کہاں ہے؟، اس کے بعد میں نے رازق کو کال کی، رازق نے بتایا اس نے مجھے آفس چھوڑا تھا۔

ہیثم نے بتایا کہ پھر میں نے رضا کی والدہ کو کال کی اور کہا کہ کیا آپ رضا کا روم چیک کر کے بتا سکتی ہیں کہ وہ ہے یا نہیں، پھر میں نے دو سے تین منٹ بعد کال کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ روم میں نہیں اور گاڑی بھی کھڑی ہے۔

ہیثم نے کہا کہ پھر میں نے رازق کو کال کی کے رضا نہیں مل رہا، پھر میں نے اسے مختلف جگہوں پر تلاش کیا، اسی دوران رازق بھی رضا کو ڈھونڈ رہا تھا، اس کے بعد میں میر کے گھر گیا تھوڑی دیر بعد رازق بھی وہاں پہنچ گیا۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ رضا کے کمرے میں گئے تھے؟ کیا آپ نے گاڑی سرچ کی تھی؟، ہیثم نے کہا کہ میں کمرے میں گیا نہ گاڑی سرچ نہیں کی، مجھے نہیں پتہ کہ لوگوں نے میرا نام کیوں لیا تھا کمرے کی تلاشی کے دوران حالانکہ میں گھر کے باہر تھا، میں نے کار کی تلاشی بھی نہیں لی تھی۔

میر رضا کے دوست رازق نے کمیشن کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ 28 جولائی کو ہم نے ساتھ کھانا کھایا تھا، اس نے مجھ سے عجیب سی بات کہی کہ ہوسکتا ہے کہ یہ آج میرا آخری کھانا ہو؟، ایسا کیوں کہاں اس کا مجھے پتہ نہیں۔

رازق نے کہا کہ میری اوررضاکی دوستی بہت اچھی تھی، کمیشن نے کہا کہ یہ کس کا آئیڈیا تھا کہ گھر اور گاڑی کی تلاشی لیں؟ جس پر رازق نے کہا کہ میں نے احمد سے ڈسکس کیا کہ آنٹی کے ساتھ تلاشی لیں، میری صرف یہ کوشش تھی کہ کوئی ثبوت مل جائے جس سے رضا کا پتہ چلے۔

کمیشن نے پوچھا کہ آپکو کمرے سے کیا ملا؟ جس پر رازق نے کہا کہ مجھے ایک رسٹورنٹ کی رسید ملی جس میں دیکھا کہ احمد راجہ کوئی شخص تھا جس سے میر قتل سے ایک دن پہلے ملنے گیا تھا۔ کمیشن سربراہ نے کہا کہ تم تین چار دوست ایک دوسرے کے بیانات سے مختلف بیان دے رہے ہو۔

رازق نے بتایا کہ مجتبیٰ نامی شخص کوئی تھا جو میر سے کرنسی ٹریڈنگ میں مشورہ کرتا تھا، میں اس سے پہلی بار فیروز آباد تھانے میں ملا تھا، میر کی عادت تھی کہ وہ ہرقسم کا پرافٹ اور نقصان ہم سے ڈسکس کرتا تھا، قتل سے ایک روزقبل تک بھی اس نے بزنس مالی پریشانیوں کا ذکرنہیں کیا تھا۔ کمیشن نے پوچھا کہ احمد اور رضا کے درمیان کوئی تلخ کلامی کوئی اختلاف تھا؟ جس پر رازق نے بتایا کہ نہیں میری نالج میں ایسا کچھ نہیں آیا۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کے سامنے پولیس نے تمام ریکارڈ پیش نہیں کیا، فوکل پرسن صاحب آپ اس معاملے کو دیکھیں، بیانات میں ایسا کیا ہے جو چھپایا جارہا ہے، بظاہر کمیشن کو گمراہ کرنے کے لئے ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، پھر تو والدین صحیح خدشات کا اظہار کررہے ہیں، کمیشن نے پولیس سے تمام بیانات طلب کئے تھے۔ کمیشن نے تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نوٹس جاری کر دیا، کمیشن نے ریکارڈ کی فراہمی سے متعلق وضاحت بھی طلب کرلی۔

کمیشن نے ڈاکٹر سمیہ اور ڈاکٹر نسیم کو بھی کل کے لیے کمیشن نے نوٹس جاری کردئیے اور کہا کہ جب ہم نے غصہ کیا اس کے بعد ہیثم اور رازق کے دونوں بیانات ہمیں مل گئے، 
اگر ایسا دوبارہ ہوا تو پھر ا سکے بعد ہم آرام سے بات نہیں کریں گے، ہمیں اس کیس کی فارنزک کی رپورٹ بھی جلد از جلد جمع کروائی جائے۔

فوکل پرسن نے کہا کہ ہوسکتا ہے کسی ہیومن کوتاہی وجہ سے کوئی رپورٹ رہ گئی ہو، کمیشن کو مطلوب تمام معلومات اور رپورٹ فراہم کی جائے گی، آج ضمنی چالان میجسٹریٹ کے پاس جمع کروادیا گیا ہے جس میں بہت لمبی لمبی لسٹیں موجود ہیں ، ہم عدیل افضال سے آج بھی معذرت چاہتے ہیں کیونکہ ان سے سوال نہیں پوچھ سکے، ہم کل تک کے لیے کارروائی ملتوی کرتے ہیں، ذیشان اور عدیل افضال کو کل سنیں گے۔