کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے آج اپنی کارروائی کا آغاز کیا تو پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا بیان ریکارڈ کیا گیا جبکہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر کمیشن نے برہمی اور افسوس کا اظہار کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق میر رضا کیس میں جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کا کارروائی ہوئی، جس میں میر رضا کے اہل خانہ، وکیل جبران ناصر، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال اور ہیڈ محرر ذیشان، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ بھی کمیشن کارروائی میں پیش ہوئے اور بیانات ریکارڈ کروائے۔
کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد کو طلب کیا تھا۔ کمیشن نے ڈاکٹر ڈاکٹر سمعیہ کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔
جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ کب سے پولیس سرجن ہیں؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ 10 جون 2022 سے پولیس سرجن کا اضافی چارج ہے۔ میرا کردار ٹیکنیکل ایڈوائزر کا ہے۔ ہم فنگرپرنٹس اور چہرے سے لاش کی شناخت کرتے ہیں، سکھر ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ہم لاش کی تصاویر لیتے ہیں، اگر کوئی لاش نامعلوم ہوتی ہے تو ڈی این اے سیمپل لینے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بائیو میٹرک سے بھی لاش کی تصدیق ہو جاتی ہے ورنہ ہم ڈی این اے سیمپلز جمع کرلیتے ہیں، اصل پوسٹنگ ایڈیشنل پولیس سرجن کے پی ایم سی ہے۔ کمیشن نے پوچھا اب تک کتنے پوسٹ مارٹم کیے ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ اب تک 99 قبر کشائی کی ہیں، سب کی تفصیلات موجود ہیں، کراچی اور ٹھٹھہ میں کام کرتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کی تعداد کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ پی آئی اے دہشت گردی حملہ کیس میں ایک دن میں 11 قبر کشائی کی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ میڈیکل سے 1996 میں ایم بی بی ایس کیا۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس میں کہا کہ کہا کہ ہمیں خوشی ہے ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ قابل شخص کے ہاتھ میں ہے۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ نے کہا کہ میں سب یہ اس لیے جاننا چاہتا ہوں تاکہ پوسٹ مارٹم کے ٹی او آر سے بخوبی واقف ہوجاؤں۔
ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ڈی کمپوز ہوئی لاشوں کو ایکسرے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایکسرے کرنے کی سہولت جناح اسپتال میں موجود ہے۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ باڈی اسپتال پہنچے پر ایس او پی کیا ہوتے ہیں؟
ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ اسپتال میں ایمبولنس، لواحقین یا پولیس کی جانب سے باڈی لائی جاتی ہے، ہر صورتحال میں پروٹوکول تبدیل ہوتا ہے۔ پہلا اقدام میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کا اجرا ہوتا ہے۔ اگر پولیس موجود نہیں ہوتی تو مطلع کرتے ہیں۔ پولیس کی موجودگی میں میڈیکولیگل سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں پوسٹ مارٹم کے لئے پولیس سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 174 کے دستاویزات درکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں پوسٹ مارٹم کے لئے پرفارما تیار کیا تھا، سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ 2023 کے تحت ناقابل شناخت باڈی کے لئے ڈی این اے نمونہ لیا جاتا ہے۔ 2021 میں پوسٹ مارٹم کے لیے پرفارما تیار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران قانون کے تحت باڈی کی تصاویر لینا لازمی ہےم پوسٹ مارٹم سے قبل باڈی کی ظاہری حالت اور ڈی کمپوزیشن سے متعلق نوٹس لینے ضروری ہے۔ سر سے پیر تک کے زخم کی جانچ کی جاتی ہے۔ ہر زخم کو ثابت کرنے کے لئے تصویر ضروری ہوتی ہے۔ زخموں کا تعین کیا جاتا ہے کہ زخم موت سے قبل لگے یا بعد میں۔ پوسٹ مارٹم میں زیادتی یا فریکچر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ موت سے پوسٹ مارٹم تک کے وقت کا تعین کیا جاتا ہے۔ کیمیکل ایگزامنیشن کے بعد حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم میں سوئپر کی معاونت کا بیان دیا تھا۔ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے غلط بیان دیا، جو شخص موجود تھا وہ لیب اسسٹنٹ ہے۔ لیب اسسٹنٹ شعیب راشد پوسٹ مارٹم کے لئے تربیت یافتہ ہیں۔ جناح اسپتال میں یومیہ 15 سے 18 پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں۔ میرے لئے تمام پوسٹ مارٹم میں شامل ہونا ممکن نہیں۔ ہائی پروفائل یا مشکوک کیس کی صورت میں خود پوسٹ مارٹم کی نگرانی کی جاتی ہے۔
کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کے ایم ایل او تربیت یافتہ ہیں؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ایم ایل او تربیت کے باوجود دلچسپی نہیں لیتے۔ میڈیکل لیگل افسران کو تربیت دی جاتی ہے، پروٹوکول بھی دیئے جاتے ہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ہمارے پاس 42 میڈیکو لیگل افسران ہیں، مسئلہ تعداد کا نہیں دلچسپی کا ہے۔
جبران ناصر نے سوال کیا کہ پوسٹ مارٹم کی تاخیر سے اہم شواہد ضائع ہوجانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس پر ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے 2023 میں جوائن کیا تھا۔ کیس کے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو باقاعدہ ٹریننگ دی گئی۔
کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے بیان میں کہا کہ آپ کو پوسٹ مارٹم کی تمام معلومات دی تھیں۔ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ میرے پاس تمام گفتگو موجود ہے۔ ڈاکٹر اسامہ سے 29 جولائی کو 5:46 پر بات ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ گلستان جوہر میں 2 روز پرانی باڈی آئی تھی۔ میں نے شناخت، ہسٹری اور گولی کے نشان کا پوچھا۔ ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم کے رجسٹر کی تصویر ٹکروں میں بھیجی۔ 30 جولائی کو دوپہر 2 بجے گولی کا ایگزٹ کے بارے میں پوچھا۔ اس کے بعد میں نے ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار کو میسج کیا اور کیس کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا لیکن ان کا جواب نہیں آیا جبکہ ایس ایس پی زبیر نزیر سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ 4 اگست کو سمیع اللہ سومرو سے بات ہوئی تھی۔ 5 اگست کو میری میٹنگ تمام افسروں سے ہوئی ہے۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ یکم اگست کو میڈیا پر چلتا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں آیا ہے کہ گولی لگنے کی جگہ سینے پر موجود ہے۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ آپ پولیس افسران سے بات کرتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے 31 اگست کو کال کی تھی لیکن اس کا اس کیس تعلق نہیں تھا۔ میں نے ویسے ہی میر کا کیس ڈسکس کیا تو ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ یہ سیدھا خود کشی کیس لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آزاد خان سے کہا کہ نہیں خود کشی نہیں ہے، میں نے انھیں اپنی آبزرویشن بھی بتائی۔ کمیشن نے ڈاکٹر سمیعہ سے ڈاکٹر اسامہ کی گفتگو کے اسکرین شاٹس کمیشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی میں کچھ دیر کا وقفہ کیا۔
وقفے کے بعد سماعت
وقفے کے بعد کمیشن کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ جسٹس عمر سیال نے اہل خانہ سے باہر جانے کی درخواست کی۔ کمیشن نے کہا کہ اسکرین پر تصاویر آپ کے لیے دکھ اور پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ میر کی بہن علیشبہ نے کہا کہ اہلخانہ موجود رہنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ نے پراجیکٹر کی مدد سے ڈاکٹر اسامہ سے گفتگو سے متعلق بیان ریکارڈ کروانا شروع کیا اور کہا کہ ڈاکٹر اسامہ سے گولی کے نکلنے کے پوائنٹ سے متعلق پوچھا جس پر ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ گولی سینے میں لگی اور کمر سے نکلی۔ 30 جولائی کو ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ تصویر ابھی موجود نہیں۔ رات میں دوبارہ ڈاکٹر اسامہ سے تصاویر مانگی۔ مجھے جو رپورٹ کی تصویر بھیجی اس میں ڈاکٹر اسامہ کا نوٹ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 31 جولائی کو ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ ان کے پاس گولی نکلنے والے پوائنٹ کی تصویر موجود نہیں۔ ڈاکٹر اسامہ سے مسلسل سوالات کئے۔ 31 جولائی کو ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ متعلقہ ایس ایس پی نے رابطہ کیا ہے۔ میں نے پھر کہا کہ مجھے تصویر بھیجو تو انہوں نے کرائم سین کی تصویر بھیجی۔ میں نے پوچھا یہ کرائم سین کی تصویر آپ کو کیسے ملی؟
ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ کسی کو رشوت دیکر یہ تصویر حاصل کی۔ تصویر میں کمر پر بہت صاف نشان تھا۔ یکم اگست کو مجھے بتایا کہ پوسٹ مارٹم جمع کروا دیا ہے۔ پروٹوکول کے مطابق ہفتے کو پوسٹ مارٹم کامن لاکر میں رکھ دیا جاتا ہے۔ میں نے بتایا کہ آپ نے کچھ پوائنٹس مس کئے ہیں۔ میں نے کہا کہ چھٹی کے بعد میرے پاس آؤ تاکہ جو چیزیں مس ہوئی ہیں وہ ٹھیک کی جاسکیں۔ تصویر پر میں نے کہا کہ گولی کی انٹری اور ایگزٹ سے میچ نہیں کرتی۔ میں نے پوچھا پوسٹ مارٹم میں کس نے معاونت کی؟ ڈاکٹر اسامہ نے ویڈیو کا فیس بک لنک بھی بھیجا، میں ایسی ویڈیوز نہیں دیکھتی۔
ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ مجھے کوئی فریکچر نہیں ملا۔ 2 اگست کو دل کی تصویر دیکھ کر میں نے پوچھا کہ یہ کس طرح سے تم نے آبزرویشنز دی ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے خود ہی رپورٹ فائنل کردی تھی جس کے بعد میرے پاس رپورٹ بھیجنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ سیف سائیڈ کے لئے نوٹ لکھا ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میرے پاس کبھی نہیں آئی۔ 4 اگست پر ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ وہ گھبرا رہے ہیں، آئندہ وجوہات محفوظ کرونگا۔ میں نے کہا وجوہات محفوظ کا نہیں بلکہ حد سے زیادہ اعتماد کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر اسامہ تب سے آف ڈیوٹی ہیں۔
کمیشن نے پوچھا کیا لاش ڈی کمپوز تھی؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ باڈی ڈی کمپوزڈ تو تھی، لیکن اس کو ٹھیک طریقے سے بتایا نہیں نہیں گیا تھا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں پولیس سرجن کے حوالے سے؟ جس پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ چھوڑیں جبران صاحب یہ غیر ضروری سوال ہے۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ بتاتی ہے کہ سیمپلز کو پولیس اہلکار ندیم مغل کے حوالے کردیا گیا تھا۔ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ سیمپلز جب لیے جاتے ہیں انہیں پریزرو بھی کیا جاتا ہے۔ مختلف جسم کے اعضاء کی الگ الگ پریزرویشن ہوتی ہیں۔ ایسے ہائی پروفائل کیسز میں اتنی دیر لگتی نہیں ہے۔ سیمپلز کی جانچ میں بھی بہت زیادہ وقت لیا گیا تھا۔ زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ جسم سے حاصل کئے گئے سیمپلز لیب تاخیر سے پہنچائے گئے۔ جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا سیمپلز کی شیلف لائف ہوتی ہے؟ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ عمومی طور پر فرق نہیں پڑتا لیکن تاخیر سے اگر کوئی کیمیکل ٹریس نہیں ہوا تو اس کے بارے میں نہیں کہہ سکتے۔ ہائی پروفائل کیس میں عموما تاخیر نہیں کی جاتی۔
جبران ناصر نے کہا کہ میں آج بہت زیادہ مداخلت کررہا ہوں، مجھے سوال پوچھنا ہے، جس پر جسٹس عمر سیال نے دھیمے لہجے میں کہا کہ آج کچھ زیادہ کررہے ہو چلو پوچھو۔ اسی دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو کھڑے ہوئے اور مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سوال کمیشن کرسکتا ہے، جبران کمیشن نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سوال کمیشن کی جانب سے کئے جانے چاہیے نا کہ جبران ناصر کی طرف سے ہونے چاہیئے۔ جسٹس عمر سیال نے جواد ڈیرو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر فیملی کو کوئی سوال پوچھنا ہے تو سندھ حکومت کو کیا اعتراض ہے؟ کیا آپ کچھ چھپا رہے ہیں؟ پہلے ہی اہل خانہ کو حکومتی اقدامات پر شک و شبہات ہیں۔
کمیشن نے ریمارکس دیے کہ فریال تالپور نے ہدایات دی ہے کہ میر رضا کے اہل خانہ کو ہر طرح سے سہولت دی جائے، ان کے تحفظات دور کیے جائیں۔ مجھے ایڈوکیٹ جنرل کی مداخلت بالکل بھی پسند نہیں آئی۔
جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں یہاں ڈکٹیٹ کروانے کے لئیے یہاں آئیں ہیں۔ میں اس طرح سے کمیشن کی کاروائی مزید نہیں چلا سکتا۔ “آئی ابورٹ دا کمیشن” وزیر داخلہ سندھ کو طلب کرنے کے لئے نوٹس جاری کئے جائیں۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کے رویے پر وزیر داخلہ کو بلانا چاہیے۔ جسٹس عمر سیال نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مداخلت پر کمیشن نے کارروائی برخاست کردی۔
جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ کو جمعرات کی صبح 9 بجے طلبی کے نوٹس جاری کردیئے۔