راولپنڈی میں گرین بس کی ٹکر سے بچی جاں بحق، بس پر پتھراؤ کرنے والے گرفتار

حادثے میں والد اور دوسری بچی محفوظ رہے، مشتعل افراد نے بس کے شیشے توڑ دیے، آگ لگانے کی کوشش، فوری بجھادی گئی


ویب ڈیسک September 09, 2026

راولپنڈی:

راولپنڈی میں گرین الیکٹرک بس کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے موٹر سائیکل پر والد کے ساتھ بیٹھی 9 سالہ طالبہ جاں بحق ہوگئی، لوگوں نے بس کے شیشے توڑ ڈالے اور اسے آگ لگادی جو فوری طور پر بجھادی گئی، ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا، پولیس نے ہنگامہ کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع کردیں۔

یونیفارم میں طالبہ کی افسوس ناک موت پر شہری مشتعل ہوگئے الیکڑاک بسوں پر شدید پتھراؤ کرتے ہوئے شیشے توڑ ڈالے ڈرائیور کو یرغمال بناکر زخمی کردیا۔

مظاہرین کی ایک بس کو عقبی حصہ میں آگ بھی لگا دی ایس ایچ او صدر بیرونی اعزاز عظیم اور مبین نامی ڈی ایف سی نے بوقت کاروائی کرکے آگ کو پھیلانے سے روکا کر بجا دیا چیف ٹریفک آفیسر فرحان اسلم اور ایس پی صدر انعم شیر بھاری پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے اور زخمی ڈرائیور اور جان بحق بچی کو ہسپتال منتقل کروایا پولیس نے پتھراؤ میں ملوث مشتعل افراد کی گرفتار کرلیا

ایکسپریس نیوز کے مطابق کہکشاں کالونی کے رہائشی حامد مقبول اپنی بیٹیوں 9 سالہ عائشہ اور دوسری بیٹی کو اسکول سے واپس لے کر جارہے تھے کہ اڈیالہ روڈ منور کالونی کے سامنے گرین الیکٹرک بس کی ٹکر سے حادثہ پیش آیا اور 9 سالہ بچی موٹر سائیکل سے گر کر بس کے نیچے آکر کچلی گی اور موقع پر دم توڑ گی۔

افسوس ناک واقعہ اور بچی کو یونیفارم میں سڑک پر دیکھ کر وہاں موجود شہری مشتعل ہوگئے اور بس پر چاروں طرف سے شدید پتھراؤ شروع کردیا جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور بس کو شدید نقصان پہنچا۔ اس دوران ایک دوسری بس بھی جو کچھ فاصلے پر تھی کو بھی نقصان پہنچایا گیا جبکہ بس ڈرائیور سید شجر عباس کو پتھراؤ سے زخمی حالت میں یرغمال بنالیا گیا۔

اطلاع ملنے پر چیف ٹریفک آفیسر فرحان اسلم اور ایس پی صدر انعم شیر ایس ایچ او صدر بیرونی اعزاز عظیم کے ہمراہ بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچیں۔ اس دوران مظاہرین نے ایک بس کو عقب سے آگ لگا کر جلانے کی کوشش کی تاہم ایس ایچ او صدر بیرونی اعزاز عظیم اور ڈی ایف سی مبین نے بروقت کوشش کرکے اگ کو بجا کر پھپلنے سے روک دیا ، زخمی ڈرائیور اور جاں بحق بچی کو ریسکیو 1122 کے ذریعے اسپتال منتقل کرواکر حادثے کی مرتکب و پتھراؤ سے متاثرہ دونوں بسوں کو وہاں سے منتقل کروایا۔

پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے اور پتھراؤ میں ملوث افراد کی گرفتاریاں شروع کردیں۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ حادثہ کیسے پیش آیا؟ اس کی تحقیقات جاری ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سے مشتعل افراد کی شناخت کرکے مزید گرفتاریوں کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ موقع سے 13 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، حادثے میں جان بحق طالبہ ایف جی گرلز اسکول میں زیر تعلیم تھی۔

بچی کے موت کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے معصوم بچی کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور افسوس ناک واقعہ پر کمشنر راولپنڈی سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمسن بچی کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے، کمسن بچی کی موت کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

گرفتار ڈرائیور پر مقدمہ درج

صدر بیرونی پولیس نے گرین بس ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، مقدمہ طالبہ کے والد حسین مقبول کی مدعیت میں  غفلت سے ڈرائیونگ کرنے سمیت قتل بالسبب وغیرہ کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

والد محمد حسین نے موقف اختیار کیا کہ اپنی دو بیٹیوں مسماۃ حمنہ مقبول اور مسماۃ عائشہ مقبول کو ایف جی گرلز ہائی اسکول طارق آباد لال کرتی سے اپنے موٹر سائیکل پر لے کر آرہا تھا، اڈیالہ روڈ مکہ مال کے سامنے پہنچا تو تو گرین بس سروس کی ایک بس نمبر 031-EV نے ہمیں تیز رفتاری سے اوور ٹیک کیا جس کی وجہ سے میری موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گئی اور میں اپنی بیٹیوں کے ہمراہ موٹر سائیکل سمیت سڑک پر گرگیا۔

والد کے مطابق گرنے سے میں اور میری بیٹی حمنہ مقبول زخمی ہوگئے جبکہ  9 سالہ عائشہ مقبول گاڑی  کے پچھلے ٹائر کے نیچے آگئی جس سے اس کا سر کچل گیا اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگئی، حادثے کے بعد لوگ اکٹھے ہوگئے، واقعہ ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری سے پیش آیا ہے مذکورہ ڈرائیور کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔