خیبرپختونخوا: مائنز اینڈ منرل بل 2025 دوبارہ زیرغور لانے کا فیصلہ، نئی ترامیم کی تیاری

خیبرپختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ارکان اسمبلی سے تجاویز مانگ لی ہیں اور اجلاس اگلے ہفتے طلب کیا گیا ہے


احتشام بشیر September 09, 2026
فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا میں متنازع مائنز اینڈ منرل بل 2025 دوبارہ زیر غور لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مائنز بل اور منرل ڈیولپمنٹ کمپنی کے قیام سے متعلق نئی ترامیم لانے کی تیاری شروع کردی گئی ہے، اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے بل میں متعلقہ پہلوؤں، قانونی تقاضوں، صوبائی مفاد اور ارکان اسمبلی کی مشاورت کے بعد ترامیم لائی جائیں گی اور اس کے لیے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ارکان اسمبلی سے تجاویز مانگ لی ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ڈیڑھ سال قبل متنازع مائنز اینڈ منرلز بل 2025 پیش کیا گیا، جو پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے مخالفت کی تھی اور حکومتی ارکان کی جانب سے بھی اس بل پر اعتراضات کیے تھے اور ارکان اسمبلی کا مؤقف تھا کہ اس بل کے ذریعے معدنیات کے حوالے سے تمام اختیارات کمپنیوں اور وفاق کو دیے جارہے ہیں، جس کے بعد شدید اعتراضات کے بعد بل مؤخر کرتے ہوئے اس کے لیے ایوان کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

خیبرپختونخوا میں اس وقت کی صوبائی حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چئیرمین عمران خان نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی مخالفت کی تھی، خیبرپختونخوا کابینہ نے منرل ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل کی منظوری دی ہے، کمپنی بل کے تحت صوبے میں مائننگ کے قواعد و ضوابط، لائسنسنگ، رائلٹی، نگرانی اور قانونی فریم ورک متعین کیا گیا ہے۔

اس وقت کی حکومت کا مؤقف تھا کہ منرل ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل ایک عملی اور ادارہ جاتی اصلاح ہے، بل کے تحت صوبائی حکومت اپنی ایک سرکاری کمپنی قائم کر رہی ہے، ‏اس اقدام کے ذریعے صوبے کی آمدن میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ، روزگار کی تخلیق اور وسائل کا عوامی مفاد میں استعمال ممکن ہوگا، خاموشی کے بعد خیبر پختونخوا منرل ڈیولپمنٹ کمپنی کے قیام کے حوالے سے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں اجلاس ہوا، جس میں معاملے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں وزیر قانون، پارلیمانی امور آفتاب عالم، وزیر معدنیات و معدنی ترقی عارف احمدزئی، سیکریٹری منرلز اینڈ منرل ڈیولپمنٹ ڈاکٹر اسرار، ڈائریکٹر جنرل اور محکمے کے دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ متعلقہ کمپنی کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل عتمانزئی اور سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل بٹ بھی موجود تھے، اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی عدنان خان، ثوبیہ شاہد، شیلہ بانو اور فائزہ ملک نے شرکت کی اور اراکین اسمبلی احمد کنڈی، ارباب عثمان اور نثار باز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کا مقصد خیبر پختونخوا منرل ڈیولپمنٹ کمپنی سے متعلق مجوزہ فیصلے کا پارلیمانی سطح پر تفصیلی جائزہ لینا اور اس کے صوبے کے مفاد پر ممکنہ اثرات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا تھا، اس موقع پر محکمہ معدنیات اور متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ صوبے کے معدنی وسائل سے متعلق کسی بھی اہم فیصلے کو تمام متعلقہ پہلوؤں، قانونی تقاضوں، صوبائی مفاد اور اراکین پارلیمان کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے۔

اجلاس میں طویل بحث و تمحیص کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ معاملے کو پارلیمانی فورم پر اراکین کی متفقہ رائے اور مکمل اطمینان کے بعد حتمی منظوری کے مرحلے تک لے جایا جائے، اجلاس کے دوران بعض اراکین کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آئے، جنہیں مزید غور کے لیے اہمیت دی گئی۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے فیصلہ کیا کہ معاملے کے تمام پہلوؤں پر مزید تفصیلی غور کے لیے اگلے ہفتے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ اراکین کے تمام تحفظات اور آرا کا جائزہ لینے کے بعد پارلیمانی فورم کی سطح پر مکمل اطمینان کے ساتھ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

اسپیکر صوبائی اسمبلی نے واضح کیا کہ صوبے کے معدنی وسائل سے متعلق ہر فیصلہ وسیع تر عوامی و صوبائی مفاد، شفافیت اور پارلیمانی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔