لاہور میں بلیک کاربن کی آلودگی میں فوسل فیول کا کردار دوگنا سے بھی زائد ہے، جبکہ شہر میں بلیک کاربن کی مجموعی مقدار 3.82 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ انکشاف ماحولیات کے تحفظ و موسمیاتی تبدیلی کے محکمے اور سپارکو کے اشتراک سے کیے گئے پی ایم 2.5 سورس اپورشنمنٹ اسٹڈی میں سامنے آیا ہے۔
مطالعے کے مطابق لاہور کی فضا میں موجود بلیک کاربن میں فوسل فیول سے پیدا ہونے والے ذرات کی مقدار 2.58 مائیکروگرام فی مکعب میٹر جبکہ بائیو ماس برننگ یعنی لکڑی، فصلوں کی باقیات اور دیگر حیاتیاتی مواد جلانے سے پیدا ہونے والے بلیک کاربن کی مقدار 1.24 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق بلیک کاربن کی سب سے زیادہ ارتکاز 30 اگست کو ریکارڈ کیا گیا، جب اس کی مجموعی مقدار 3.82 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی۔ مطالعہ 15 سے 31 اگست 2026 کے دوران لاہور میں کیا گیا۔
مطالعے کا مقصد پی ایم 2.5 میں شامل بلیک کاربن کے بڑے ذرائع کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ شہر میں فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوسل فیول کا استعمال بلیک کاربن کی آلودگی کا نمایاں ذریعہ ہے، جس میں گاڑیوں اور ایندھن جلانے والے دیگر ذرائع شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بلیک کاربن انتہائی باریک آلودہ ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے باعث سانس کے مسائل، دل کی بیماریوں اور آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن جیسے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔