کسی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ، پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر فیصلہ

عوامی عہدہ رکھنے والا شخص بھی اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں یا داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ نہیں کرسکتا، عدالت


فیاض محمود September 14, 2026

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والا شخص بھی اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں یا داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ نہیں کرسکتا، کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو اسلام آباد کے انٹرچینجز اور ٹول پلازوں پر قبضے کا اختیار نہیں، راستوں میں رکاوٹ ڈالنا بنیادی حقوق کے خلاف ہے، کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں کی جاسکتی،اسلام آباد میں تجارت اور کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت عالیہ نے اپنے محفوظ فیصلے میں حکم دیا کہ کوئی سرکاری افسر کسی احتجاج یا ریلی پر زبردستی مجبور کرنے والے آرڈر پر عملدرآمد نہ کرے۔ کوئی بھی افسر جسے مجبور کیا جائے وہ فوری طور پر اپنے صوبے کے چیف سیکرٹری /چیف کمشنر یا آئی جی کو آگاہ کرے، ۔

عدالت نے حکم دیا کہ کوئی بھی سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد کی طرف آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شامل نہ ہونے دے۔ صوبوں کے وزیراعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو۔ صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرلز فوری طور پر ہیلپ لائن قائم کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ چیف سیکرٹریز کے آرڈرز پر جو سرکاری افسر عملدرآمد نہ کرے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔ صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہوں۔ وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ کسی احتجاج میں عوامی فنڈز یا سرکاری افسران و اہلکاروں کو استعمال نہ کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق جلوس یا ریلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری وسائل استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

عدالت نے صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو بھی عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔

عدالت نے ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔

قبل ازیں ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف کیس میں دلائل اور آئی جی خیبرپختونخوا کا بیان سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا نے بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز چلانے سے متعلق متفرق درخواست دائر کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا تھا کہ وہ 27 اے کے نوٹس کے تحت پیش ہوئے، حالانکہ 27 اے کا نوٹس صرف اٹارنی جنرل پاکستان کو تھا، ایڈووکیٹ جنرلز کو نہیں۔

سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے لانگ مارچ سے متعلق اخبار میں چھپنے والے بیانات پڑھے گئے۔ چیف جسٹس نے متفرق درخواست سے متعلق استفسار کیا تو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ کہتے ہیں لانگ مارچ بڑا پرامن ہوگا اور عدلیہ کو مضبوط کرنے کے لیے آرہے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی قیادت کے بیانات عدالت کے سامنے پڑھیں گے، ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’یا آزادی یا شہادت‘‘۔ انہوں نے نومبر 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں چلانے کی اجازت بھی مانگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اس عدالت کی روایت نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی ویڈیوز چلائی جاتی رہی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں ہوگا لیکن ہم ایسی روایت نہیں بنانا چاہتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت متفرق درخواست کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ ویڈیوز چلانے کی اجازت کی درخواست پر غور کے لیے سماعت میں وقفہ کیا گیا اور ججز اپنے چیمبرز میں چلے گئے۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے 2022 اور 2024 کے پی ٹی آئی احتجاج کی ویڈیوز چلانے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ویڈیوز صرف ایک بار چلانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

کمرہ عدالت میں 2022 اور 2024 کے پی ٹی آئی احتجاج میں سرکاری مشینری کے استعمال سے متعلق ویڈیوز چلائی گئیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ مظاہرین نے بکتر بند گاڑی تباہ کی، گرین بیلٹ کو آگ لگائی اور ڈی چوک کے مناظر بھی ویڈیوز میں موجود ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پولیس اہلکار کمال کو شہید کیا گیا، 2024 میں پوری طاقت کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی ہوئی اور سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق اسلحہ لے کر شیل استعمال کیے گئے اور سرکاری وسائل استعمال ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف نائن پارک کے سامنے گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، یہ کسی طرح پرامن جلسے کا منظر نہیں۔ ماہر لوگ پولیس پر شیل فائر کرتے دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے دے کر کچلا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں جلسہ یا ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ درخواست کی روشنی میں اجازت دے سکتا ہے اور مطمئن نہ ہونے پر درخواست مسترد کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے۔ مظاہرین ایک سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور حکومت کو گھر بھیجنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور دونوں مطالبات غیرقانونی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق سزا یافتہ قیدی کو رہا کروانے کا طریقہ عدالت ہی ہے، جبکہ چوک چوراہوں کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجنے کی بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون سی عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور کیا ایسی عدلیہ چاہتے ہیں جو ان کے کہنے پر رات کو دروازے کھول دے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس انہیں روکنے کی صلاحیت نہیں، ہم پیشگی انتظامات اور کنٹینرز ہی لگا سکتے ہیں ، اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے۔ آج تک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت کے لیے درخواست نہیں دی گئی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پرامن احتجاج کا حق ضرور ہے مگر کچھ شرائط بھی ہیں۔ عدالت اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہدایات جاری کرے، اس سے پہلے کہ جتھہ لے کر آجائیں۔ آزادی اظہار رائے کا حق ہے لیکن باقی حقوق بھی قانون کے تابع ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتی نمائندوں کو بھی اس طرح کی اشتعال انگیز تقاریر کا حق ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اشتعال انگیز تقریر کا کسی کو حق نہیں اور نہ آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا وزرائے اعلیٰ یا حکومتی نمائندے ایسی تقاریر کرسکتے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ایسا کسی کو حق حاصل نہیں۔ اس کے ساتھ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل مکمل ہوگئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے مطابق درخواست قبل از وقت ہے، لیکن ان کی زندگی اور بچوں کی تعلیم آئین کے مطابق بنیادی حقوق ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا زندگی کو خطرہ ہونے پر نقصان پہنچنے تک عدالت نہیں آسکتے؟

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کیا بچوں کے اسکول پر قبضہ ہوجائے تو اس کے بعد عدالت آئیں؟ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص سر پر بندوق رکھ کر کھڑا ہو اور پھر عدالت سے رجوع کیا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کہہ رہے ہیں کہ ہم اسلام آباد آرہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت اور سیاسی جماعت میں فرق ہی نہیں رہا؟ ایڈووکیٹ جنرل کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دو ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تقریریں کررہے ہیں کہ وہ 40 لاکھ لوگ لے کر آئیں گے۔ ایک سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے اس طرح کی تقاریر کی جارہی ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے سوال کیا کہ اگر 40 لاکھ لوگ یہاں آجاتے ہیں تو کیا حکومت عدالت کو ہدایت دے گی کہ قیدی کو ضمانت دے دیں؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے اور پھر عدلیہ کی آزادی کہاں جائے گی؟ اختر چھینہ نے کہا کہ غیرآئینی مطالبے کے لیے احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ 20 لاکھ لوگوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں۔ اگر عدالت کوئی آرڈر نہیں کرتی تو ہمارے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں رہتا۔

عدالت نے انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے انہیں اپنا بیان حلفی پڑھنے کی ہدایت کی، جس پر آئی جی خیبرپختونخوا نے عدالت میں جمع کرایا گیا اپنا بیان حلفی پڑھا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انہیں صرف سرکاری مشینری استعمال کرنے سے نہیں روکنا بلکہ غیرقانونی لانگ مارچ کو بھی روکنا ہے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے پوچھا کہ اگر کوئی غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا آپ اسے نہیں روکیں گے؟

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق بیان حلفی جمع کرایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بیان حلفی میں یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ آپ غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام کو روکیں گے۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر کوئی غیرقانونی کام ہوا تو اسے روکیں گے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر کوئی غیرقانونی اور غیرآئینی اجتماع ہوتا ہے تو اسے روکا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت آئی جی کا حلفیہ بیان لکھ رہی ہے کہ ان کے دائرہ اختیار میں کوئی بھی غیرقانونی اور غیرآئینی اجتماع ہوا تو وہ اسے روکیں گے۔ غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام روکنے کے ساتھ مظاہرین کو منتشر بھی کیا جائے گا۔

دلائل اور بیان حلفی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، جو بعد ازاں جاری کردیا گیا۔