سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بحیرۂ احمر اور اہم آبی گزرگاہوں میں آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قاہرہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں پیدا کیے جانے والے خطرات پر تبادلۂ خیال کیا۔
مصر کی صدارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور عبدالفتاح السیسی نے آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کے ذریعے بحری آمدورفت کی آزادی اور سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں بالخصوص باب المندب آبنائے پر حوثیوں کے کنٹرول سے پیدا ہونے والے خطرے کا جائزہ لیا گیا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اور مصر کی نہر سوئز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا یقین دلایا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ حالیہ حملوں میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں شہری زخمی ہوئے ہیں جس کے بعد ریاض نے حوثیوں کے خلاف ’’سخت جواب‘‘ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے جبکہ دوسری جانب آبنائے ہرمز خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔