اسرائیل اور مراکش نے سفارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں ملکوں میں سفارتی مشنز کو مکمل سفارت خانوں میں تبدیل کرنے اور سفیروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کی میزبانی میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔
اس تاریخی ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا گیا جن میں دونوں ملکوں میں سفیروں کی تقرری اور رابطہ سفارت خانوں کا قایم شامل ہے۔
اسرائیلی اور مراکشی وزرائے خارجہ کے مذاکرات کے بعد جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق اسرائیل اور مراکش اپنے اپنے ملک میں قائم سفارتی رابطہ آفسز کو سفارتی خانے میں تبدیل کردیں گے۔
علاوہ ازیں دونوں وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور مراکش کے درمیان پروازوں کی تعداد بڑھانے، آنے والے مہینوں میں اعلیٰ سطح کے دوروں کا سلسلہ شروع کرنے اور سرمایہ کاری و ٹیکس سے متعلق معاہدے سال کے اختتام تک مکمل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ملاقات کے بعد کہا کہ اسرائیل اور مراکش کے درمیان تعلقات تاریخی بنیاد رکھتے ہیں اور دونوں ممالک نے تعلقات کو عملی طور پر مزید وسعت دینے کے طریقوں پر اتفاق کیا ہے۔
یہ پیش رفت ابراہیمی معاہدوں کے چھ سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آئی ہے۔ اسرائیل اور مراکش نے دسمبر 2020 میں امریکا کی ثالثی میں سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جنوری 2021 میں اسرائیل نے رباط میں اپنا رابطہ دفتر دوبارہ کھولا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے پہلے ہی سرمایہ کاری، ٹیکس اور کسٹمز سے متعلق معاہدوں پر کام ہوچکا ہے جبکہ 2020 کے مالیاتی مفاہمتی معاہدے میں دوطرفہ سرمایہ کاری کے تحفظ اور دوہری ٹیکس وصولی سے متعلق انتظامات پر مذاکرات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔