پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم

ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے سیکریٹریٹ میں نیا نظام قائم ہوگا


ویب ڈیسک September 17, 2026

لاہور:

پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم کر دیا گیا ہے۔

سیشن ججز کے پاس 150 سال سے موجود ماتحت عدالتوں کے عملے کی براہ راست بھرتی کے اختیارات ختم کر دیے گئے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے فل کورٹ نے نئے رولز کی متفقہ منظوری دے دی۔

منظوری کے تحت سیشن ججز اب اپنے ضلع میں براہ راست ماتحت عدلیہ کا عملہ بھرتی نہیں کر سکیں گے، نائب قاصد سے گریڈ 16 تک تمام آسامیوں پر براہ راست بھرتی کے سیشن ججز کے اختیارات ختم ہوگئے۔

ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے سیکریٹریٹ میں نیا نظام قائم ہوگا۔

نئے نظام کے تحت جس ضلع میں عملے کی کمی ہوگی سیشن جج ڈی جی اسٹیبلشمنٹ کو خالی آسامیوں سے آگاہ کرے گا اور ڈی جی اسٹیبلشمنٹ چھان بین کے بعد بھرتی کا کیس لاہور ہائیکورٹ سیکریٹریٹ کو ارسال کرے گا۔ امیدواروں کی بھرتی تحریری امتحان اور انٹرویو کے بعد میرٹ پر کی جائے گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں میں بھرتیوں کے لیے صاف اور شفاف طریقہ کار وضع کر دیا، پنجاب حکومت نئے عدالتی عملے کی بھرتی سے متعلق نئے رولز کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔