جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات پر مذاکرات کا پانچواں دور بھی بے نتیجہ رہا جبکہ حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کردی۔
ہفتہ کی شام جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ہونیوالے مذاکرات میں حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثنااللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شریک ہوئے جبکہ جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، معاون خصوصی عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی شامل تھے۔
حکومتی وفد نے مذاکرات کے دوران سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی۔
حکومتی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوام کو جلد غیر معمولی ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومتی وفد نے مذاکرات میں کہا کہ حکومت کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کا سامنا ہے اور آئی ایم ایف کا وفد بھی جلد پاکستان آنے والا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ لازم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے مطالبات پر عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر احتجاج اور لانگ مارچ ضرور کیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ کے مطابق پروگرام کے مطابق امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں ’’سپر لانگ مارچ‘‘ کل کراچی سے شروع ہوگا۔