کراچی سمیت ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ آج منعقد ہورہا ہے

ملک بھر میں مجموعی طور ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدواروں نے خود کو ٹیسٹ کیلئے رجسٹرڈ کرایا ہے


ویب ڈیسک September 20, 2026

کراچی:

کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 آج منعقد ہورہا ہے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مطابق پاکستان کے 34 شہروں جبکہ ایک بین الاقوامی مركز رياض، سعودی عرب میں ٹیسٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

ملک بھر میں مجموعی طور پر 138,160 امیدوار رجسٹرڈ ہیں جس میں پنجاب کے 49 ہزار 199 امیدوار، خیبرپختونخوا کے 38 ہزار 841، سندھ  کے 34ہزار 233 امیدوار، بلوچستان کے 9 ہزار 923، آزاد کشمیر کے 2,761 ،گلگت بلتستان کے 1,721 امیدوار، اسلام آباد کے 1,245 امیدوار شامل ہیں۔ ریاض میں ایم ڈی کیٹ کے 237 امیدوار رجسٹرڈ ہیں۔

ہر صوبے کے لیے علیحدہ سوالیہ پرچے تیار کیے گئے ہیں، ہر پرچے میں 180 سوالات شامل ہیں، امتحان کے بعد سوالیہ پرچے متعلقہ جامعات کے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔

کراچی میں ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ اوجھا انسٹیٹیوٹ کو امتحانی مراکز کے طور پر مختص کیا گیا، جہاں صبح سویرے ہی امیدواروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ رپورٹنگ کا وقت صبح 6 بجے مقرر ہونے کے باعث طلبہ اور ان کے والدین بڑی تعداد میں مراکز کے باہر موجود رہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے باہر امیدواروں اور والدین کا رش دیکھنے میں آیا، جبکہ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونا شروع ہوگئی۔ امتحانی مراکز کے اطراف ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور امتحانی مراکز کے اطراف پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

سکھر آئی بی اے کے وائس چانسلر پروفیسر آصف احمد شیخ کے مطابق سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے لیے 8 شہروں میں 9 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کراچی، حیدرآباد، جامشورو، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور اسلام آباد شامل ہیں۔ اسلام آباد میں ایک امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی میں تقریباً 6 ہزار جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں 4 ہزار 964 امیدوار ٹیسٹ دیں گے۔ یوں کراچی میں مجموعی طور پر تقریباً 11 ہزار طلبہ و طالبات ایم ڈی کیٹ میں شریک ہوں گے۔

ایم ڈی کیٹ کا امتحان آج اتوار کو صبح 10 بجے شروع ہوگا جبکہ امیدواروں کے لیے رپورٹنگ کا وقت صبح ساڑھے 6 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ سیبا ٹیسٹنگ سروسز نے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر امتحانی مراکز پہنچیں۔ ٹیسٹ کا دورانیہ 3 گھنٹے ہوگا۔

امتحانی انتظامیہ کے مطابق امیدواروں کو امتحان مکمل ہونے سے قبل امتحانی مرکز چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام امیدواروں کو ٹیسٹ کے اختتام تک اپنی نشستوں پر موجود رہنا ہوگا۔

امتحان ختم ہونے کے بعد امیدوار سوالیہ پرچہ اپنے ساتھ نہیں لے جاسکیں گے۔ انہیں مرکز سے روانہ ہونے سے قبل سوالیہ پرچہ نگران عملے کے حوالے کرنا ہوگا، جبکہ سوالیہ پرچہ واپس نہ کرنے کی صورت میں امیدوار کا نتیجہ منسوخ کردیا جائے گا۔

امتحانی مراکز میں موبائل فون سمیت کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس کو ساتھ لانے پر پابندی ہوگی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ امتحان کے دوران کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ پروفیسر آصف احمد شیخ نے کہا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کا پیپر لیک نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس حوالے سے کیے گئے وعدے کو ایک بار پھر دہرایا گیا ہے۔

سیبا ٹیسٹنگ سروسز کے مطابق تمام امتحانی مراکز پر امیدواروں کے والدین اور سرپرستوں کے لیے علیحدہ انتظار گاہیں قائم کی جائیں گی۔

امتحانی ہال میں امیدواروں کو ضروری اسٹیشنری اور صاف پینے کا پانی بھی فراہم کیا جائے گا، جبکہ پی ایم ڈی سی کے مطابق والدین اور سرپرستوں کے لیے امتحانی مراکز پر دیگر ضروری انتظامات بھی کیے جائیں گے۔

ایم ڈی کیٹ 2026 کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ جیوینائل کارڈ کی لازمی شرط ختم کردی گئی ہے۔ جیوینائل کارڈ نہ ہونے کی صورت میں بھی امیدوار امتحان میں شرکت کرسکیں گے۔

تاہم امتحانی مرکز پر امیدواروں کی شناخت کے لیے اصل مارک شیٹ کی جانچ کی جائے گی، اس لیے امیدواروں کو شناخت اور دستاویزات سے متعلق ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام نے امیدواروں پر زور دیا ہے کہ وہ امتحانی مرکز پر بروقت پہنچیں، ممنوعہ اشیا ساتھ نہ لائیں اور امتحان کے دوران جاری کردہ تمام ضوابط کی پابندی کریں۔