خواجہ فرید یونیورسٹی میں لیکچرار پر طالبہ کو ہراساں کرنے کا الزام، واٹس ایپ پیغامات منظرعام پر

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسکرین شاٹس نے طالبات کے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے


ویب ڈیسک September 22, 2026

رحیم یار خان:

خواجہ فرید یونیورسٹی میں لیکچرار کی جانب سے طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس سامنے آگئے۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسکرین شاٹس نے طالبات کے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے۔

طالبہ نے لیکچرار پر مبینہ ہراساں کرنے اور نامناسب واٹس ایپ پیغامات بھیجنے جبکہ ملاقات کے لیے مبینہ دباؤ اور انکار پر تعلیمی نقصان کی دھمکی دینے کا الزام لگایا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش واٹس ایپ اسکرین شاٹس میں استاد کی جانب سے طالبہ کو نمبرز اور گریڈز کا لالچ دے کر ہراساں کیا گیا ہے۔

طالبہ نے دعویٰ کیا کہ لیکچرار کی طرف سے یونیورسٹی، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے پریشان کیا جا رہا ہے۔

طالبہ نے مبینہ رابطوں اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہونے کا دعویٰ کر دیا جبکہ طالبہ نے وائس چانسلر کو ای میل کے ذریعے معاملے سے آگاہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ باقاعدہ شکایت موصول ہونے پر ضابطے کے مطابق تحقیقات اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔