لاہور:
برطانوی امیگریشن ٹیم اپنے دورہ پاکستان میں اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹس پہنچی، برطانیہ جانے والے مسافروں سے سوالات کیے اور مطمئن نہ ہونے پر کئی مسافروں کو آف لوڈ کرادیا۔
سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق برطانیہ کی امیگریشن ٹیم کے ہمراہ برطانوی سفارت خانے کے کچھ اعلی افسران بھی تھے جہنوں نے پی آئی اے کی پرواز پی کے 757 کے مسافروں کی دوران چیک ان تمام مراحل کا جائزہ لیا۔ اس دوران ٹیم نے مسافر علی عمران سمیت دیگر مسافروں سے از خود سوالات کیے اور جن مسافر کے جوابات سے مطمئن نہ ہوئے انہیں آف لوڈ کردیا گیا۔
یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی غیر ملکی ٹیم نے اس طرح مسافروں سے سوالات کیے اور مسافروں کو آف لوڈ کردیا گیا۔
پی آئی اے سول ایوی ایشن اور پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے وہ افسران جو برطانوی امیگریشن ٹیم کے ہمراہ تھے انہوں ںے واقعے کی رپورٹ اپنے اپنے اعلی حکام کو ارسال کردی جبکہ امیگریشن حکام نے پاکستان سے برطانیہ جانے والی براہ راست پروازوں اور مسافروں کی امیگریشن، سہولیات اور کارگو کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
اس دوران ایئرپورٹ اتھارٹی، سی اے اے اور پی آئی اے حکام نے یوکے امیگریشن ٹیم کو اپنے اپنے ادارے کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
برطانوی امیگریشن ٹیم کراچی ائیرپورٹ کا بھی دورہ کرے گی پھر اس دورے کی مفصل رپورٹ اپنے ادارے کو دے گی اس رپورٹ میں جن جن خامیوں کی نشاندہی کی جائے گی ائیر لائنز سمیت دیگر ادارے انہیں دور کرنے کے پابند ہوں گے۔