خیبرپختونخوا میں آئی جی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی، گورنر نے پولیس ایکٹ کی منظوری غیرآئینی قرار دیدی

میرے پاس جب ایکٹ آئے تو دیکھوں گا،کوئی چیزغیرآئینی ہوئی تو منظور نہیں کروں گا اور اعتراض کروں گا، فیصل کریم کنڈی


ویب ڈیسک September 23, 2026
فوٹو: اے پی پی

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ کی جانب سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کی تعیناتی کے طریقہ میں تبدیلی سمیت دیگر تجاویز پر مبنی پولیس ایکٹ کی منظوری پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غیرآئینی قرار دے دیا۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے جو پولیس ایکٹ منظور کیا وہ غیرآئینی ہے، پی ٹی آئی کا بیانیہ تھا کہ پولیس غیر سیاسی ہوگی، میرے پاس جب ایکٹ آئے تو دیکھوں گا اگر کوئی چیزغیرآئینی ہوئی تو منظور نہیں کروں گا اور اس پر اعتراض کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں پولیس ہماری غلام ہو، ہم پولیس کو ٹائیگر فورس بننے نہیں دیں گے، گورنر یا وزیراعلیٰ ہو کوئی غلط اقدام نہیں ہوسکتا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے وہ چاہتے ہیں آئی جی اور پولیس کو اپنے تابع کریں، یہ چاہتے ہیں ڈی ایس پی کو بھی 25 فی صد کوٹہ پر لائیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی نااہل حکومت ہے کہ ان کے پاس مستقل وزیرداخلہ نہیں، میں غیرآئینی غیرقانونی ایکٹ کو کیوں منظور کروں، پاکستان بننے کے بعد ایسی کوئی روایت نہیں تو پولیس ایکٹ کو کیوں منظور کروں، جب میرے پاس ایکٹ منظوری کے لیے آئے گا، تب میں دیکھوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آرڈر ہے، سرکاری وسائل استعمال نہیں کریں گے، آپ سرکاری وسائل پر پارٹی چلانا چاہتے ہیں، آپ اپنی پارٹی کےلیے اسلام آباد جا رہے ہیں کوئی سرکاری کام کےلیے نہیں ہے، ہر جگہ سے آپ کو فنڈ آرہے ہیں، آپ اپنے فنڈز بھی کھا جاتے ہیں، جس نے سرکاری وسائل استعمال کیے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں کیے جا رہے ہیں، یہ اپنے صوبے کا بارڈر کراس نہیں کرسکیں گے اور اسلام آباد نہیں جائیں گے، صوبے میں روازنہ کی بنیاد پر شہادتیں ہوئیں، یہ ڈی چوک کے باہر الٹا لٹک جائیں ان کا لیڈر ایسے آزاد نہیں ہوگا، اپنے صوبے کو پہلے بھی تباہ کیا ہے دوبارہ کرنا چاہتے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر آئین میں گورنر راج موجود ہے اور اگر وفاقی حکومت سمجھتی ہے تو کوئی قباحت نہیں، ہر گھٹنے بعد حالات دیکھے جاتے ہیں، صدر مملکت اور وفاقی حکومت سمجھتی کہ گورنر راج لگایا جائے تو پھر کسی بات کی ضرورت نہیں ہوگی۔

دریں اثنا صدر عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں واحد ہم تھے جو پولیس ایکٹ کی مخالفت کررہے تھے، ہمارا مؤقف واضح تھا کہ فرد واحد کو تمام اختیارات تفویض کرنا پولیس فورس میں بہتری کے بجائے بگاڑ پیدا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے ذریعے صوبے کے کوٹے میں دوسرے صوبوں کے افسران کی پروموشن کی بھی ہم نے مخالفت کی تھی، آج بھی جو کچھ کیا جا رہا ہے، اگر اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تو عدالت اسے اڑا کر رکھ دے گی، آج کی مجوزہ ترمیم بھی بظاہر پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 11(1) اور قابلِ اطلاق پی ایس پی کیڈر رولز/ایسٹاکوڈ کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو آئی جی کی واپسی یا ریپیٹری ایشن کے معاملے میں بھی قانونی کردار حاصل ہے، پتا نہیں ان کو یہ مشورے کون دیتا ہے، پولیس ایکٹ 2017 کے بعد کپتان صاحب جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ ہم نے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر دیا ہے اور آج کیا کیا جا رہا ہے، کیا یہی وہ پولیس اصلاحات ہیں جن کا دعویٰ کیا جارہا تھا۔