فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی عوام کا قتل عام، تباہی، فاقہ کشی اور جبری نقل مکانی جاری ہے جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھی فلسطینیوں کے خلاف اقدامات میں شدت آگئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے مسلسل دوسرے برس بھی فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر اعلیٰ فلسطینی حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا تھا۔
جس کے باعث وہ نیویارک نہیں پہنچ سکے تاہم فلسطینی صدر محمود عباس کی غیرموجودگی میں ان کاریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں چلایا گیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 152 ووٹوں سے قرارداد منظور کرکے محمود عباس کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کی اجازت دی تھی جبکہ تین ارکان نے مخالفت کی تھی۔
ریکارڈ شدہ پیگام میں فلسطینی صدر نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی تاریخ کے خطرناک ترین ادوار میں سے ایک سے گزر رہے ہیں اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں زندگی کی بنیادی ضروریات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
انھوں نے اسرائیل پر فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کی بھی مذمت کی۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی اور امریکی منصوبے کا زکر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور جلاوطنی کے کسی منصوبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے امریکا کی جانب سے فلسطینی وفد کو ویزا نہ دینے کے فیصلے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس اقدام سے فلسطینی قیادت کو عالمی فورم پر اپنا مؤقف پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکا۔