27 ستمبر کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ متحرک ہوگئی، پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور ڈور ناکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں تقریباً 150 پی ٹی آئی رہنما اور کارکن زیرحراست ہیں، زیرحراست افراد کو 3 ایم پی او کے تحت مختلف جیلوں میں نظر بند کیا گیا ہے۔ راولپنڈی، اٹک، چکوال، مری اور جہلم میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔
لانگ مارچ کے پیش نظر پی ٹی آئی کے سرگرم رہنماؤں اور کارکنوں کی مانیٹرنگ بھی جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 463 سرکردہ رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کی گرفتاری کے لیے پولیس متحرک ہے، جبکہ انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور انصاف لائرز فورم کے 91 رہنما اور کارکن بھی مانیٹرنگ میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق 20 روز کے دوران راولپنڈی ڈویژن میں 2 ہزار سے زائد ڈور ناکنگ کی گئی، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر ڈور ناکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے انڈر گراؤنڈ ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
لانگ مارچ کے پیش نظر راستوں کی بندش کے لیے شاہراہوں کے کناروں پر کنٹینرز موجود ہیں، جبکہ پولیس فورس کی تعیناتی سمیت دیگر اقدامات بھی جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں تقریباً 43 ہزار پولیس اہلکار لانگ مارچ کے لیے ڈیوٹی سرانجام دیں گے، صرف اٹک میں 30 ہزار اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، جبکہ راولپنڈی میں ساڑھے 10 ہزار سے زائد پولیس فورس تعینات ہے۔
پولیس کی اضافی نفری کے علاوہ رینجرز کو بھی پولیس کی معاونت کے لیے تعینات کردیا گیا ہے۔