پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ لانگ مارچ کو 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کی تجویز پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔
وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہ صحافیوں کو دوبارہ زحمت دیں گے، تب تک آپ سب بھی اجازت لے لیں ان باتوں کو چلانے کی۔
ذرائع نے کہا کہ سیاسی کمیٹی میں مزید مشاورت کے بعد لانگ مارچ کو ملتوی کرنے یا نہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی رہنماوں کی مختلف آراء پر غور کیا گیا، سیاسی کمیٹی نے اجلاس میں راستوں کی بندش اور کارروائیوں سے متعلق کیا۔
ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں لانگ مارچ 27 ستمبر کو یا کسی اور تاریخ کو شروع کرنے پر غور کیا گیا، سیاسی کمیٹی اجلاس میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا سمیت وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے وزیراعلی ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی باونڈری پر کیل لگانے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، کیا اس صوبے کے عوام یہ سمجھے کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر کام شروع ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے سرکاری لوگ دوسرے صوبے میں گھس کر وہاں کے سرکاری اہلکاروں سے گتھم گتھا ہوگئے ہیں، سڑک پر یہ کیلے ان کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوگی، پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کیا گیا، کے پی کے وزراء کو اغواء کیا جارہا ہے۔
پشاور:ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن ہے چاہے یہ کچھ بھی کرے اس بار نکلے تو ان کرپٹ حکمرانوں کا ونس فار آل بندوبست کرینگے، سیاسی کمیٹی کا اجلاس تاحال جاری ہے چارسدہ سے واپسی پر آپ سے ملاقات ہوگی، سول سیکرٹریٹ کو جعلی تھریٹس کے ذریعے تمام سرکاری کام بند کروادیئے، سول سیکرٹریٹ کینٹ کے علاقہ میں آتا ہے جو سیکورٹی اداروں کی زمہ داری ہے۔