راجا تری دیو وطن میں جلا وطن

پاکستان کے لیے سب کچھ چھوڑ دینے والے اس بودھ راجا نے 17 ستمبر 2012 کو اسلام آباد میں آخری سانس لی۔


Zahida Hina September 26, 2012
آج اس شخص کی زندگی قصہ کہانی لگتی ہے جو تحریک پاکستان میں شامل نہ تھا۔

آج اس شخص کی زندگی قصہ کہانی لگتی ہے جو تحریک پاکستان میں شامل نہ تھا۔

اس کی ریاست مشرقی بنگال کا حصہ تھی اور وہ بودھ مت کا ماننے والا تھا۔ ریاست اس کے خاندان میں 1100 برس سے تھی۔

اور وہ اس کا 50 واں راجا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان جو مشرقی بنگال کی تحریک آزادی کے سربراہ تھے، انھوں نے اسے پیشکش کی کہ وہ عنقریب بننے والی بنگلہ دیشی حکومت میں بھی اسی طرح وزیر مشیر رہے جس طرح متحدہ پاکستان میں تھا لیکن وہ ان لوگوں کو کیسے چھوڑ دیتا جن کے ساتھ اس نے 25 برس گزارے تھے۔

سارا خاندان اسے سمجھاتا رہا لیکن اس وقت جب پاکستان اپنی تاریخ کے خطرناک اور المناک دوراہے پر تھا، اس نے اپنا وزن ہارتے ہوئے پاکستان کے پلڑے میں ڈالا۔ راج پاٹ چھوڑا، نابالغ بیٹے کو گدی پر بٹھایا، بھائی کو اس کا سرپرست مقرر کیا اور9 نومبر 1971 کو پاکستان چلا آیا۔

پاکستان کے لیے سب کچھ چھوڑ دینے والے اس بودھ راجا نے 17 ستمبر 2012 کو اسلام آباد میں آخری سانس لی۔

یہ چٹاگانگ ہل ٹریکٹس میں رہنے والے چکما قبائل کے راجا تری دیو رائے کا قصہ ہے۔ راجا صاحب کی زندگی کسی کہانی سے کم نہیں۔ چکما راج کا شاہی نشان دیکھیے۔

تاج کے سائے میں سونڈ سے سلامی دیتے ہوئے دو ہاتھی ایک طغریٰ سنبھالے ہوئے ہیں۔ جس میں ایک توپ دھری ہے اور اس پر دو تلواریں نظر آ رہی ہیں۔ بدھ مت کو ماننے والے راجائوں کے شاہی نشان میں جنگ و جدل کے تمام پرانے اور نئے ہتھیار اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

چکما قبائل گیارہویں صدی میں اراکان، برما سے نکالے گئے تو مشرقی بنگال میں چٹاگانگ ضلع کی سرسبز پہاڑیاں اور گھنے جنگل ان کا ٹھکانہ بنے۔

سولہویں صدی میں مسلمان حکمرانوں کی فوجیں وہاں پہنچیں تو ان سے امن اور تجارت کے معاہدے کیے اور ایک دشوار اور دور دراز علاقے میں خاموش زندگی بسر کرتے رہے۔

اس زمانے میں بدھ مت کے پیروکار ان راجائوں کے نام پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اس وقت کے مسلم حکمرانوں کا کتنا اثر تھا۔

راجا چمن خان، جلال خان، فتح خان، شیر مست خان، شیر دولت خان، جان بخش خان، جبار خان۔ ایسٹ انڈیا کمپنی سے چکما قبائل کی لڑائی برسوں جاری رہی۔ آخر صلح اس شرط پر ہوئی کہ چکما راج انھیں ہر سال 500 من اعلیٰ قسم کی روئی دے گا اور تاج برطانیہ انھیں چین سے رہنے دے گا۔

زمانہ بدل رہا تھا، چکما راج کے راج کمار انگریزی پڑھنے لگے اور انگلستان جانے لگے۔ 1874 میں برٹش راج نے چکما راجا کی خدمات کے عوض انھیں ''رائے بہادر'' کا خطاب دیا۔ تری دیو 1933 میں پیدا ہوئے تو وہ راجا بھی تھے اور رائے بھی۔ 1953 میں راجا کی گدی پر بیٹھے۔

وہ کبھی جنرل ایوب خان کو اپنے جنگلوں میں شکار کھلاتے رہے اور ملکہ الزبتھ دوم جب پاکستان کے دورے پر آئیں تو انھیں اپنے علاقے کی سیر کرائی جہاں کا امن ان کے سگڑ دادا نے ملکہ وکٹوریہ کے دور میں 500 من روئی کے عوض خریدا تھا۔

نومبر 1971میں ڈھاکا ان کی نگاہوں کے سامنے ڈوب رہا تھا اور وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے جب کہ وہ 70 میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنے علاقے سے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے۔

مغربی پاکستان کے حکمرانوں کا ظلم اور عاقبت نااندیشی تھی جس کی قیمت لاکھوں بے قصور اور بے گناہ انسانوں نے اپنی جان، مال اور عزت سے ادا کی۔ کپتائی ڈیم کی تعمیر کے لیے انھوں نے اپنا وسیع، شاندار اور تاریخی چکما محل ڈوبتے دیکھا تھا جس میں ان کے پرکھوں کا اور ان کا بچپن گزرا تھا اور اب پاکستان ڈوب رہا تھا۔

وہ پاکستان آئے تو یہ بدترین سیاسی بحران کے دن تھے۔ وہ لوگ جو مغربی پاکستان سے 1970 میں منتخب ہوئے تھے، ان پر مشتمل آئین ساز اسمبلی نے اپنا کام شروع کیا۔ ایک لبرل اور وسیع المشرب سماج کو وہ قدم بہ قدم بکھرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ 1973کا آئین منظور ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو جو پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔

انھوں نے ان سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ راجا صاحب پاکستان کے صدر ہو جائیں، انھوں نے بہت نرمی سے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ 1973 کا پاکستانی آئین کسی مسلمان پاکستانی عورت اور غیر مسلم مرد کو صدر ہونے کا حق نہیں دیتا۔ تو کیا ان سے اشاروں میں اسلام قبول کرنے کو کہا جا رہا تھا؟ وہ شاید جانتے تھے یا نہیں جانتے تھے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ انھوں نے بعض ذاتی دوستوں سے کہا کہ ''میں سونے کے پنجرے میں قید نہیں ہونا چاہتا۔'' اسی کے بعد بھٹو صاحب نے انھیں تا حیات وفاقی وزیر کے عہدے پر مقرر کیا۔ پاکستان آنے کی سب سے بھاری قیمت انھیں اس وقت ادا کرنی پڑی جب اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کی رکنیت کا مسئلہ اٹھا۔ بھٹو صاحب نے پاکستان کا مؤقف پیش کرنے کے لیے راجا تری دیو رائے کو پاکستانی وفد کا سربراہ مقرر کیا۔

وہ نیویارک پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ شیخ مجیب نے جو بنگلہ دیشی وفد بھیجا ہے اس کی سربراہی ان کی ماں، راج ماتا آف چکما راج، رانی بنیتا رائے کر رہی ہیں۔ راج ماتا نے کولکتہ کے بیتھون کالج میں پڑھا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ماں اور بیٹا ایک دوسرے کے مقابل ہوئے۔

رانی بنیتا اپنے نو آزاد ملک کے لیے رکنیت کا حق مانگنے آئی تھیں اور اسے لے کر وطن واپس پلٹیں۔ راجا تری دیو رائے کو اگر یہ معلوم ہوتا کہ ان کا مقابلہ اپنی ماں سے ہوگا تو وہ پاکستانی وفد کی سربراہی سے معذرت کرلیتے وہ اپنی ماں اور اپنی جنم بھومی سے ہار کر اسلام آباد لوٹے۔

راج ماتا آف چکما راج رانی بنیتا رائے1990 تک زندہ رہیں اور بنگلہ دیشی حکومت میں مختلف وزارتوں پر فائز رہیں۔

50 یا شاید 60 کی دہائی کی ایک تصویر ہے جس میں راجا تری دیو اپنے بھائی راج کمار سمیت رائے کے ساتھ ہیں اور کسی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

سر پر سرخ بنارسی صافہ، زربفت کی شیروانی، پنڈلیوں پر پھنسا ہوا چوڑی دار پاجامہ اور کمر میں گنگا جمنی کام کی منقش دستے والی تلوار۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی مغل شہزادہ کھڑا ہے۔ اسی طرح 1961 کی ایک تصویر میں وہ جنرل ایوب خان کے ساتھ ہیں۔

ایوب خان سوٹ میں ہیں اور نوجوان راجا، جامہ وار کی شیروانی اور چوڑی دار پاجامے میں کمر سے تلوار باندھے کھڑے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ سری لنکا میں ہمارے سفیر رہے اور سری لنکا کی حکومت نے انھیں اپنا سب سے بڑا شہری اعزاز عطا کیا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی نے انھیں بہت آزردہ کیا۔

بھٹو کی زندگی میں انھوں نے اپنے بعض دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی سونے کے پنجرے میں نہیں گزار سکتے لیکن سچ تو یہ ہے کہ خود اختیاری جلا وطنی کے بعد ان کی زندگی سنہرے پنجرے میں ہی گزری۔ 1981میں جنرل ضیاء الحق نے انھیں لاطینی امریکا کے ملک ارجنٹائن کا سفیر بنا کر بھیجا اور پھر وہ چلی، ایکواڈور، پیرو اور یوراگوئے میں سفیر رہے۔ وہاں سے واپسی پر انھوں نے اپنی یادیں ' سائوتھ امریکن ڈائری' کے نام سے لکھیں۔

لکھنا انھیں بہت محبوب تھا۔ 1972میں ان کی کہانیوں کے دو مجموعے شایع ہوئے جن میں سے ایک کا پیش لفظ فیضؔ صاحب نے لکھا تھا۔ 2006 میں ان کی کہانیوں کا اردو ترجمہ شایع ہوا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح ان کی کہانیاں زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں گی۔

ان کا یہ مجموعہ 'انسان خطا کا پتلا ہے' کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔ 2003 میں The Departed Melody شایع ہوئی جو ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے آغاز میں انھوں نے لکھا ہے کہ میں اپنے پیاروں کو، اپنی جنم بھومی کو کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ زندگی اب تنہا گزرے گی۔ اپنے خاندان کے لوگوں سے اور اپنی حسین پہاڑیوں اور سرسبز جنگلوں سے میرا کوئی سمبندھ نہیں ہو گا۔

میرے پتا جی کی تربیت اور میرا مذہب مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا کہ میں جو 47 سے 71 تک پاکستانی شہری تھا اس سے غداری کر سکوں۔

راجا صاحب کی پھوپھی جوتش ودیا، ستاروں کی چال اور جنتری پر گہرا یقین رکھتی تھیں۔

انھیں جب معلوم ہوا کہ وہ 9 نومبر 1971 کو مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان جا رہے ہیں تو انھوں نے اپنے بھتیجے کی راہ روکنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ منحوس ہے اور اگر تم اس روز سفر پر روانہ ہوئے تو کبھی لوٹ کر گھر نہ آ سکو گے۔

وہ سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے لیکن جب وہ دنیا سے گئے تو پاکستان میں انھیں محض رسمی طور پر یاد کیا گیا۔ وہ وطن میں بھی جلا وطن رہے۔ اس موقعے پر بے ساختہ یہ مصرعہ یاد آتا ہے کہ:
'اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے؟'

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں

رائے