صومالی قزاقوں کے ہاتھوں جاں بحق تین پاکستانیوں کی میتیں اور چار زخمی کراچی پہنچ گئے

میتیں اور زخمی اہل خانہ کے حوالے، گورنر نہال ہاشمی، ناصر حسین شاہ، وقار مہدی، فاروق ستار اور وسیم اختر بھی موجود


اسٹاف رپورٹر October 04, 2026

کراچی:

صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود تیل بردار جہاز پر آپریشن کے دوران تین جاں بحق اور چار زخمی پاکستانیوں کو ادیس ابابا کے راستے ایتھوپین ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کراچی منتقل کر دیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET-694  کے ذریعے زخمی اور میتیں کراچی ایئرپورٹ پہنچیں، زخمیوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان جب کہ جاں بحق افراد میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔

رفیع اللہ اور محمود انصاری کی نماز جنازہ آج بعد نماز عشاء ادا کی گئی جبکہ کاشف عمر کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی۔

ایئرپورٹ پر گورنر سندھ نہال ہاشمی زخمیوں اور میتوں کو وصول کرنے کے لیے بورڈنگ برج ایریا پہنچے۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، سعید غنی، وقار مہدی، وزارت خارجہ کے محمد عرفان سومرو، فاروق ستار، وسیم اختر اور دیگر سیاسی شخصیات بھی موجود تھیں۔

شہید آئلر رفیع اللہ کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جہاز اغوا ہوا تو رفیع اللہ نے چھوٹے بھائی کو کہا تھا کہ میرے بچوں کا خیال رکھنا۔ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں، میرا بیٹا بہادری سے شہید ہوا۔ ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ باقی عملہ بھاگ رہا تھا تو شہید کلمہ پڑھ رہے تھے۔ ایک قزاق نے بھاگتے وقت ہوائی فائرنگ کی، گولیاں ٹکرا کر عملے کو لگیں، رفیع اللہ کی گردن پر گولی لگی۔ آپریشن کے دوران براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وہ والدہ اور گھر والوں کی فرمائشیں خوشی سے پوری کرتے تھے، بچے بڑوں سب سے احترام سے پیش آتے تھے۔

محمود انصاری کے صاحبزادے نے بتایا کہ مغویوں کو بہت برے حال میں رکھا گیا تھا، کھانا نہیں دیا جاتا تھا اور پینے کے لیے آلودہ پانی دیا جاتا رہا۔ مغویوں کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی لیکن حکومت نے توجہ نہ دی۔ جس روز آپریشن ہوا مغویوں کو محبوس رکھا گیا تھا۔ ہمارا خاندان پانچ ماہ بہت تکلیف میں رہا لیکن ایک امید تھی۔ اب معاوضہ دینے کا کیا فائدہ۔

ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر نے کہا کہ تین مغوی اب بھی جہاز پر ہیں، اسحاق ڈار سے کہوں گا اپنے آفس کو استعمال کریں اور تینوں مغویوں کو وطن لایا جائے۔

رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار نے کہا کہ آج مظلوموں کی بے بسی اور ظالموں کی بے حسی دیکھی گئی۔ اگر بے حسی کا مظاہرہ نہ ہوتا تو یہ تین لاشیں کراچی کو نہ ملتیں، وہ زندہ بازیاب ہوتے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی یہ ترجیح نہیں تھی، اگر کوئی خاص ہوتے یا کسی خاص کے بھانجے بھتیجے ہوتے تو سب زندہ لائے جاتے۔ ہم نے کہا ہمیں ذمہ داری دی جائے ہم پیسہ جمع کریں گے، ذمہ داری نہیں دی گئی۔ پہلے قزاقوں نے 85 کروڑ تاوان مانگا تو کراچی کے ترقیاتی کاموں سے 25 کروڑ دینے کی پیشکش کی تھی۔ ماضی میں تاجر برادری کے تعاون سے عشرت العباد نے مغوی بازیاب کروائے تھے۔ گٹر اور کنٹینرز سے کراچی کے بچے مر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم سے رابطہ کیا۔ کراچی میں ہمارا میئر ہوتا تو کے ایم سی کے فنڈ سے 85 کروڑ دے دیتے۔ بے حسی کو ختم ہونا چاہیے اور صومالیہ کے آس پاس بحری تجارت کو محفوظ بنایا جائے۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد فاروق نے کہا کہ افسوسناک واقعہ ہے جتنی تعزیت کی جائے کم ہے۔ ریاست ماں نے بچوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی، ریاست کی وجہ سے یہ سانحہ دیکھنا پڑا۔ گیلانی صاحب کا بیٹا تاوان کے بعد آسکتا ہے تو یہ بچے کیوں نہیں آئے؟ متاثرین نے فارن آفس کو کہا کہ ہم پیسے جمع کریں گے اجازت دی جائے، وہ بھی اجازت نہیں دی گئی۔ فارن آفس کے باہر متاثرین پر تشدد کیا گیا۔ الخدمت کی جانب سے جماعت اسلامی علاج معالجے کا تمام خرچہ اٹھائے گی اور ہر فورم پر لواحقین کے ساتھ رہے گی۔

وطن واپس آنے والے کراچی سے تعلق رکھنے والے یاسر خان نے صحافیوں کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ 21 اپریل کو عمان سے 2700 ٹن ڈیزل لے کر روانہ ہوئے تھے۔ خلیج عدن میں یمن کے قریب بحری قزاقوں نے کشتیوں کے ذریعے جہاز کو دونوں اطراف سے گھیر لیا اور فائرنگ شروع کردی۔

یاسر خان کے مطابق ابتدائی فائرنگ میں بھی کاشف عمر گولیوں کی زد میں آنے سے بال بال بچے۔ بعد ازاں قزاقوں نے بحری جہاز کو ایک ریت کی پہاڑی کے قریب لے جاکر مزید 42 قزاقوں کو جہاز پر سوار کرلیا۔ قزاقوں نے عملے سے رقم اور کھانے پینے کا سامان لوٹا اور بعد میں نیروبی سے ایک مترجم کو بلوا کر بحری جہاز کے کپتان سے 7 ملین  ڈالرز تاوان طلب کیا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے زخمی پاکستانی عقیل خان نے بتایا کہ واقعے کے وقت مذکورہ بحری جہاز پر ان کی ڈیوٹی کا 16واں روز تھا۔ بحری قزاقوں نے یرغمال بناتے وقت شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے۔ عقیل خان نے پاکستانی حکومت کی جانب سے وطن واپسی کے لیے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

پانچ ماہ سے زائد عرصے تک قزاقوں کی قید اور خوفناک حالات کا سامنا کرنے کے بعد وطن واپس پہنچنے والے پاکستانیوں نے کہا کہ وطن کی سرزمین پر قدم رکھنا ان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا لمحہ ہے، تاہم اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کا دکھ بھی ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت اور دیگر سہولیات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ زخمی پاکستانیوں کو مزید طبی نگہداشت کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پاکستانیوں کی وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر رقت آمیز مناظر

پاکستانیوں کی وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی، پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی، جماعت اسلامی کے رہنما و رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، آسیہ اسحاق اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے زخمی پاکستانیوں کا استقبال کیا۔

اس موقع پر زخمیوں کو گلدستے پیش کیے گئے، ان کی خیریت دریافت کی گئی اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحری قزاقوں کے حملے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، دکھ کی اس گھڑی میں ہم جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر وہ صوبائی وزیر سعید غنی اور وقار مہدی کے ہمراہ ایئرپورٹ پر موجود ہیں تاکہ وطن واپس آنے والے زخمی پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ زخمیوں کے علاج و معالجے کے تمام اخراجات سندھ حکومت برداشت کرے گی اور اس حوالے سے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے زخمیوں کو مزید طبی معائنے اور علاج کے لیے آغا خان اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں ضرورت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت سندھ زخمیوں کے علاج اور طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی جبکہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بھی ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے نے پوری قوم کو غمزدہ کیا ہے اور حکومت و سیاسی قیادت متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

اس موقع پر گورنر سندھ نہال ہاشمی، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، جماعت اسلامی کے رہنما محمد فاروق اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی موجودگی میں زخمیوں کی عیادت کی گئی اور انہیں حوصلہ دیا گیا۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت سندھ زخمیوں کے علاج اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور زخمیوں کو جلد مکمل صحتیابی عطا فرمائے۔

ایئرپورٹ پر موجود سیاسی رہنماؤں اور دیگر شخصیات نے بھی زخمی پاکستانیوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور اظہار یکجہتی کیا، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد اور مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔