امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے پستی کی شکار موجودہ معاشی صورتحال پر حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی معیشت قرار دیا۔
ڈیموکریٹ سینیٹر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں اور قرضوں پر بڑھتا ہوا سود خاندانوں کے بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔
انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو ملک میں گھریلو بجٹ پر بڑھتے دباؤ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور قرض لینے کی بلند لاگت کے باعث امریکی خاندان غیر ضروری اخراجات کم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
سینیٹر الزبتھ وارن نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں لوگ تفریح اور باہر کھانے پینے جیسی سماجی سرگرمیوں پر بھی اخراجات کم کر رہے ہیں جس سے معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاشی اثرات امریکی صارفین پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ ماہ ملک بھر میں پیٹرول کی قیمت 4.27 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل اور روزمرہ اشیا کی لاگت بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ وسط مدتی انتخابات میں بھی صرف ایک ماہ باقی ہے اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی آرہی ہے۔