ایران میں حکومت مخالف احتجاج سے گرفتار مزید 2 افراد کو پھانسی دیدی گئی

ایران بھر میں معاشی مشکلات اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف عوامی احتجاج دسمبر 2025 میں شروع ہوئے تھے 


ویب ڈیسک October 05, 2026
داعش سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں نے زائرین کی بس میں بم نصب کیا تھا

ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران 4 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزام میں مزید 2 افراد کو پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبررساں ادارے میزان کے مطابق علی رضا سپاہی اور علی رضا رئیسی کو پیر کی صبح پھانسی دی گئی۔

دونوں کو جنوری میں اصفہان میں ہونے والے احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے ان کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

ایرانی حکام کے مطابق دونوں افراد پر مسلح باغی گروہ سے وابستگی، ہتھیار استعمال کرکے خوف و ہراس پھیلانے، قومی سلامتی کے خلاف اقدامات، زمین میں فساد اور تشدد و قتل پر اکسانے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا تعلق اصفہان میں 4 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت سے تھا۔

خیال رہے کہ یہ احتجاج دسمبر 2025 میں معاشی مشکلات اور ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شروع ہوئے تھے جو بعد میں ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئے۔

8 اور 9 جنوری کو مظاہروں میں شدت آئی اور کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

ایرانی حکام نے احتجاج کے دوران 3 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع دی اور تشدد کو غیر ملکی حمایت یافتہ ’’دہشت گرد کارروائیوں‘‘ سے جوڑا تھا۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے الزامات بھی عائد کیے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے دونوں مقدمات میں منصفانہ عدالتی کارروائی اور تشدد کے ذریعے اعترافات حاصل کرنے سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔