وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں انویسٹمنٹ فریم ورک اور فنانسنگ دستیاب ہے، منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے دنیا صلاحیت مہیا کرے، پاکستان سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے جس نے خسارے پر قابو پاتے ہوئے ذرمبادلہ بڑھاکر اچھی ریٹنگ حاصل کرکے اور پانڈا و یورو بانڈز کے اجراء کرکے اسکی بنیادی ضروریات حاصل کرلی ہیں۔
یہ بات انہوں نے منگل کو یو این ڈی پی، وفاقی وصوبائی حکومتوں کی "پاکستان کے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری" فیئر اینڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے گرین ٹیکسونومی فریم ورک کا مسودہ دیدیا ہے۔موسمیاتی خوشحالی کے منصوبے میں 14روزہ پروگرام کے ساتھ پاکستان اسٹاک ایکس چینج ESG انڈیکس پر کام کررہا ہے جس سے لسٹڈ کمپنیوں کی کارکردگی ومعلومات سامنے لانے میں مدد ملے گی۔ فنڈنگ کے لیے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے علاوہ ہم اپنے وسائل بھی استعمال کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لندن اور نیو یارک کے سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ ہماری سمت درست ہے۔ ہمیں مقامی سرمایہ کاری کے فروغ پر کام کرنا ہے کیونکہ مقامی سرمایہ کاری بڑھنے سے ہی بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے معاشی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، نجی شعبہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سرمایہ کاری کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، ترقیاتی منصوبوں میں حکومت اور نجی شعبے کی شراکت داری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی نمو کے لیے 4امور اہم ہیں جن میں پالیسی فریم ورک، فنانسنگ کی صلاحیت اور بینک ایبل منصوبے شامل ہیں لہذا پاکستان کو اپنی صلاحیت بہتر کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہماری بقاء کے مسائل ہیں۔ پاکستان سال 2047 میں 40کروڑ افراد کا ملک ہوگا۔ ہماری توجہ روزمرہ مسائل پر مرکوز رہتی ہے لیکن اب ہمیں اپنی بقاء کے اس اہم مسلے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف بھی پاکستان کے ساتھ ہیں، صلاحیت بڑھانے کے لیے پاکستان کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بات چیت اب ’’کیا اور کیوں‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’کیسے اور کون‘‘ تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستانی کاروباری گروپس اب مل کر کنسورشیم بنا کر کام کر رہے ہیں، گزشتہ مالی سال 11 آئی پی اوز ہوئے جو 20 سال کی بلند ترین سطح ہے، گزشتہ تین ماہ میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 5 آئی پی اوز ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ میں حکومت کا کردار کلیدی ہے، حکومت مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام پر توجہ دے رہی ہے، معاشی ترقی کے ساتھ برآمدات میں اضافہ بھی ہماری ترجیح ہے، ایسی معاشی نمو درکار ہے جو ذمہ دارانہ اور پائیدار ہو، عالمی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی پالیسی آگے بڑھانا ہوگی، مہنگائی میں کمی کے لیے معاشی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آبادی پائیداری کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ملک کے تین کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے فنانسنگ اور صلاحیت کا فقدان ہے۔ نجی شعبے کا کرادار اس کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خدشات بڑھ رہے ہیں، بدلتے حالات میں بینک ایبل منصوبوں مرتب کرنا دشوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اور شہروں کی طرف ہجرت بڑے چیلنجز ہیں، شہروں کی طرف آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کو مناسب نمائندگی حاصل نہیں، پانی کی فراہمی اور کچرے کو ٹھکانے لگانا آنے والے وقت کے بڑے مسائل ہیں، شہری مسائل کے حل کے لیے مقامی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا لیکن شہری مسائل سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل اور اداروں کی صلاحیت میں کمی ہے، بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مقابلے میں دستیاب وسائل کافی نہیں، پائیدار شہری ترقی کے لیے درست منصوبہ بندی اور مناسب وسائل ضروری ہیں،
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سرکاری و نجی شعبے کا مل کر کام کرنا ایک کامیاب ماڈل ثابت ہو رہا ہے، خصوصاً پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دونوں شعبے اپنی توانائی اور ریگولیٹری فریم ورک کو یکجا کرسکتے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دونوں شعبے اپنی توانائی اور ریگولیٹری فریم ورک کو میز پر لاسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے ماحول اور بندرگاہوں کے بکھرے ہوئے منظرنامے میں بینک ایبل منصوبے بنانا آسان نہیں ہے۔ چیلنجنگ ترقیاتی ماحول میں بینک ایبل منصوبوں کی تشکیل کوئی معمولی کام نہیں، یہ ایک اہم چیلنج ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایسے منصوبے تشکیل دینا ضروری ہے جو مالی طور پر قابلِ عمل اور بینک ایبل ہوں، سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر شراکتداری ترقیاتی منصوبوں کو بینک ایبل بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
یو این ڈی پی کی ڈپٹی ریزیڈنٹ وان نگوین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ صرف سرکاری وسائل سے ترقیاتی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ، ویسٹ مینجمنٹ ودیگر بنیادی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
نجی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ عمل کاروباری ماڈل، شفاف پالیسی اور مناسب منافع کی یقین دہانی ضروری ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو ایک مشترکہ ایجنڈے کے تحت کام کرنا ہوگا۔ سرمایہ کاری کے لیے ایسے منصوبے سامنے لانے ہونگے جس سے عوام مستفید ہوں۔