کراچی:
شہر قائد میں ایک اور بند فلیٹ سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے افسوسناک واقعے نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا جاں بحق ہونے والوں میں میاں بیوی، ان کی دو کم سن بچیاں اور ایک خاتون شامل ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاشیں گلشن فلک ناز، بلاک جے، پلاٹ نمبر ایس تھری کی گراؤنڈ فلور پر واقع ایک کمرے کے بند اپارٹمنٹ سے ملیں۔
گھر اندر سے بند تھا اور دروازے کے ہینڈل میں ورزش کے لیے استعمال ہونے والی ڈمبل راڈ پھنسا کر دروازہ بند کیا گیا تھا۔
پولیس کو فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جاں بحق افراد میں 30 سے 32 سالہ شہزیب ولد نوازش علی، ان کی 28 سے 30 سالہ اہلیہ صبا، شہزیب کی 20 سے 22 سالہ بہن شمائلہ اور ان کی دو کم سن بیٹیاں شامل ہیں۔ بچیوں کی عمریں تقریباً 4 سے 5 سال اور 3 سے 4 سال بتائی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شہزیب اور صبا کی لاشیں صوفے پر بیٹھی ہوئی حالت میں ملیں، دونوں کے سروں پر گولی لگنے کے نشانات تھے، جبکہ صبا کی گود سے ایک پستول بھی برآمد ہوا۔
شاہزیب کی بہن شمائلہ اور دونوں بچیوں کی لاشیں بستر پر پڑی تھیں، جنہیں چادروں سے ڈھانپا گیا تھا۔ ابتدائی مشاہدے کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بچیوں کو فائرنگ کے واقعے سے قبل زہر دیا گیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق پوسٹ مارٹم اور دیگر تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔
جاں بحق افراد کی لاشیں گراؤنڈ پلس ٹو کے مکان سے ملیں جنہیں جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود ہے، بتایا جا رہا ہے کہ متوفی متوفی شاہزیب پراپرٹی ایجنٹ تھا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر متعلقہ حکام نے جائے وقوعہ پر کرائم سین یونٹ طلب کرلیا ہے تاکہ شواہد جمع کیے جاسکیں اور واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جاسکے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پانچوں اموات کن حالات میں ہوئیں اور واقعے کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک تحریر بھی ملی ہے جو مبینہ طور پر شاہزیب نے خودکشی سے پہلے لکھی تھی، جس میں انہوں نے اپنی بیروزگاری اور مالی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے رپورٹ طلب کرلی
بن قاسم میں گھر سے پانچ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے کا آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
آئی جی سندھ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ہلاکتوں کی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے، فرانزک تحقیقات اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں کسی ممکنہ مجرمانہ پہلو یا ملوث عناصر کو سامنے لایا جائے۔
جاوید عالم اوڈھو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے اور تمام حقائق کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے۔