انسداد دہشت گردی عدالت نے احتجاج، دہشت گردی اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک کے ڈیوٹی جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ضمانت کی درخواستیں ابوالحسنات صاحب ہی سنیں گے۔ جج نے استفسار کیا کہ کیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے کل ملاقات ہوگئی تھی؟ اس پر شیریں مزاری نے کہا کہ انہیں بہت زیادہ تنگ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ملاقات کروائی جاتی ہے۔
وکیل صفائی ریاست آزاد نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس پرسوں کے لیے مقرر کیا جائے۔ اس پر جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ جج صاحب پرسوں نہیں آئیں گے، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت وکلا کو اتنا ریلیف تو دے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ جج صاحب پرسوں نہیں ہوں گے، وہ 19 اکتوبر کو واپس آکر کیس سنیں گے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا نے سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔