پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لیے تعینات اضافی نفری کی واپسی شروع، کنٹینرز بھی ہٹائے جانے لگے

راولپنڈی اور اسلام آباد میں تعینات اینٹی رائٹ مینجمنٹ فورس تاحکمِ ثانی اپنی موجودہ جگہوں پر تعینات رہے گی


صالح مغل October 13, 2026
فوٹو: فائل

راولپنڈی:

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور حالات معمول پر آنے کے بعد پی ٹی آئی لانگ مارچ اور دھرنے کے لیے تعینات اضافی پولیس نفری کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا، جبکہ اسلام آباد سے لانگ مارچ روکنے کے لیے رکھے گئے کنٹینرز بھی ہٹائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے 50 فیصد سے زائد کنٹینرز واپس بھجوا دیے گئے ہیں، جبکہ داخلی راستوں پر ریت کی بوریوں سے بھرے کنٹینرز مکمل طور پر ہٹا دیے گئے ہیں۔ ریڈ زون اور اس کے اطراف میں رکھے گئے کنٹینرز تاحال موجود ہیں، جنہیں آج شام تک ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد بلائی گئی اضافی نفری کو بھی واپس بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ سے 2 ہزار جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے 3 ہزار اہلکار اسلام آباد طلب کیے گئے تھے، جنہیں واپس بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی، اٹک اور میانوالی سے اضافی پولیس نفری کی واپسی تین مرحلوں میں ہوگی۔ پہلے مرحلے میں اہلکاروں کی واپسی کا عمل پیر کی شام سے شروع کیا گیا، جبکہ مختلف مقامات پر لگائے گئے کنٹینرز اور عارضی رکاوٹیں ہٹانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق اٹک میں 29 ہزار سے زائد، اسلام آباد میں تقریباً 22 ہزار اور راولپنڈی میں ضلعی پولیس کی معاونت کے لیے 5 ہزار سے زائد اضافی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ نفری کی واپسی کا شیڈول متعلقہ افسران کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، جبکہ آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز نے پولیس دستوں کی واپسی کے طریقہ کار کی منظوری دے دی ہے۔

حکام نے ہدایت کی ہے کہ نفری کی واپسی سے قبل اہلکاروں، گاڑیوں اور دیگر سامان کا ریکارڈ مکمل کیا جائے، جبکہ اضافی پولیس فورس کی واپسی کے باوجود سیکیورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاری برقرار رکھی جائے۔

دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں فسادات سے نمٹنے کے لیے تعینات اینٹی رائٹ مینجمنٹ فورس کو تاحکمِ ثانی موجودہ مقامات پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔

حکام نے پولیس نفری کی مرحلہ وار واپسی کے عمل کو محفوظ، منظم اور مربوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے مسلسل ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی خدمات کو سراہا ہے۔