لائبہ اعجاز خودکشی کے معاملے میں اہم انکشاف ہوا ہے جب کہ مانسہرہ پولیس مبینہ سستی نہ کرتی تو لائبہ کی جان بچائی جاسکتی تھی، مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں ملزم نعمان کیخلاف 85 لاکھ کے فراڈ کا مقدمہ درج ہوا۔
ذرائع نے کہا کہ دوران تفتیش پتا چلا کہ ملزم نعمان لائبہ سے پیسے لے رہا ہے، 85 لاکھ فراڈ مقدمہ کے مدعی نے تفتیشی افسر کو لائبہ سے رابطہ کرکے متنبہ کرنے کا بھی کہا۔
تفتیشی افسر نے لائبہ سے رابطہ کیا نہ ملزم نعمان کو گرفتار کیا، لائبہ کی موت سے ایک مہینہ قبل مدعی مانسہرہ پولیس کو لے کر اسلام آباد آیا۔
ذرائع کے مطابق مانسہرہ پولیس، اسلام آباد پولیس کیساتھ مل کر نعمان کے گھر بھی گئی، پولیس کے پہنچنے پر گھر میں موجود بچوں نے بتایا ملزم نعمان رات کو کہیں چلا گیا تھا۔
ملزم نعمان نے مانسہرہ کے خاندان کے 12 بچوں کو حساس ادارے میں بھرتی کروانے کی امید دلائی، ملزم نعمان نے ان 12لڑکوں لڑکیوں کے سی ایم ایچ سے میڈیکل بھی کروائے۔
ملزم نے اس فیملی سے 85لاکھ روپے بٹورے، جس کا مقدمہ بھی درج ہے، ملزم نعمان نے اس فیملی کو جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر، سروس کارڈ بھی بناکر دیے۔