وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے غیر ملکی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق رائے کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کی گئیں، ہمارا صرف ایک غیر سیاسی ایجنڈا تھا، پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھ سکتی تھی اور اپنے دیگر سیاسی مطالبات بھی پیش کر سکتی تھی، تاہم وفاقی حکومت صرف دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور متفقہ پالیسی اختیار کرنا چاہتی تھی۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی اور ان کی حمایت کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جس سے دہشت گردوں کو اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملے۔ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک ملک کی دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔ ایک طرف وفاقی حکومت افغانستان کے حوالے سے بات چیت اور سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور مطالبہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔ عبوری افغان حکومت قابل اعتبار اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی عبوری افغان حکومت کے بارے میں الگ پالیسی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ آئین سازوں نے آئین میں متعلقہ دفعات ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کی تھیں، لہٰذا اٹھائے گئے اقدامات 1973 کے آئین کے تحت قانونی طور پر درست ہیں۔ صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور امن و امان کی صورت حال بھی مکمل طور پر خراب ہو گئی تھی۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق ایسی قابل بھروسہ اطلاعات موجود ہیں کہ جن علاقوں میں دہشت گرد سرگرم ہیں، وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ان اضلاع سے بحفاظت گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پی ٹی آئی کا مارچ ان اضلاع سے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کے بعد گزرا کہ اسے ان علاقوں سے بحفاظت گزرنے کی اجازت ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے ذریعے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم دہشت گردی کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) قائم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی گئی؟ یہ رقم خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے یا پولیس کے لیے جدید آلات خریدنے پر کیوں استعمال نہیں ہوئی؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ چند ہفتے قبل انہوں نے خیبر پختونخوا میں کوہاٹ کا دورہ کیا، جہاں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے ہسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کی اور شہدا کے گھروں پر بھی گئے۔
ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے لوگ ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ شدید مشکلات اور تکالیف برداشت کرنے کے باوجود زخمی افراد کے عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں تھی، تاہم دہشت گردی سے ان کی زندگی اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ طالبان کے پیش کردہ اسلام کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ طالبان خیبر پختونخوا میں ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں خواتین کو حصول تعلیم کا حق نہ دیا جائے۔ ان کے بقول یہ وہ نظریہ ہے جسے فروغ دیا جا رہا تھا۔
انہوں نے سوال کیا کہ جو حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہو، وہ دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ان کی سرگرمیوں کو کیسے فروغ دے سکتی ہے؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان ایک مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔ ان کے مطابق کان کنی اور معدنیات کے شعبے، لکڑی اور تمباکو کی تجارت یا سونے اور قیمتی پتھروں کی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو سرحد پار اسمگلنگ جاری نظر آتی ہے۔ ان سرگرمیوں میں دہشت گردوں کو مبینہ طور پر حکومتی سرپرستی اور سہولت فراہم کی جاتی رہی۔
انہوں نے بتایا کہ کوہاٹ جاتے ہوئے راستے میں ایک پٹرول پمپ پر وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ہونے والی رجسٹریشن کا جائزہ لیا، جہاں کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کی رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی۔ عطاء اللہ تارڑ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے 13 برسوں میں ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کیوں نہیں کی؟ ان کے مطابق اس کی وجہ دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ، بدعنوانی، غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں بیک وقت جاری تھیں اور حکمرانی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے کی طرز حکمرانی کا جائزہ لیا جائے تو نہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ہوئیں، نہ صحت کے شعبے میں، اور نہ ہی صوبے کے عوام کو بنیادی سرکاری خدمات فراہم کی گئیں۔ صوبے کے عوام نے بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ اس جنگ کو جیتنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری طرف ایک ایسی حکومت موجود تھی جس کی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً جنوبی اضلاع میں صورت حال یہ تھی کہ دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے تھے، جبکہ صوبائی حکومت قانون کے مطابق ان سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ متعدد مواقع پر صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کا اظہار سامنے آیا۔ وفاقی حکومت نے انہیں سمجھانے اور دلیل کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر ایک معاہدے پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ نے اسے مسترد کر دیا۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور کارروائی کے لیے تیار نہیں تھے اور انسداد دہشت گردی کی مربوط پالیسی نافذ کرنے پر بھی آمادہ نہیں تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں قومی ایکشن پلان موجود ہے اور اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک صوبہ ان اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرنے سے گریزاں کیوں تھا؟ ان کے بقول اس معاملے میں ایک بہت بڑا تضاد موجود ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے عوام پی ٹی آئی حکومت کے دہشت گردی کے حامی مؤقف کی حمایت کرتے تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نظر آتے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بڑھکیں بھی سنی گئیں۔ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمانوں نے کہا تھا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوئی تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئیں گے اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے، لیکن وہ ایک درجن افراد کو بھی باہر نہیں لا سکے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام میں امید پیدا ہوئی ہے کہ اب ان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اب تحفظ اور سلامتی فراہم کی جائے گی، ان کے جان و مال اور روزگار محفوظ ہوں گے اور سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جائے گا۔
عطاء اللہ تارڑ نے سابقہ صوبائی کابینہ اور تشکیل دی گئی نئی کابینہ کے ارکان کی قابلیت اور تجربے کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ نئی ٹیم کا ہر فرد اپنے اپنے شعبے میں نمایاں صلاحیتوں کا حامل ہے، وسیع تجربہ رکھتا ہے اور عوامی خدمت کے میدان میں کام کر چکا ہے۔ ان کی دیانت داری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشاورتی کونسل ہے جس میں قبائلی توازن برقرار رکھا گیا ہے۔ اس مشاورتی کونسل میں صنفی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے اور نجی و سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے کا عزم اور حوصلہ موجود ہے۔