خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر کی بازیابی کیلیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

بابر سلیم سواتی کے کزن نے سپریم کورٹ کے وکیل کی وساطت سے درخواست دائر کی، فوری سماعت کی استدعا


ویب ڈیسک October 13, 2026

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کے مبینہ اغوا اور فوری بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے کزن وقار احمد نے بازیابی کیلیے درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے منتخب اسپیکر کو سی سی پی او پشاور کی موجودگی میں مسلح اور نقاب پوش افراد نے اغوا کیا، جبکہ ان کی موجودہ جگہ، تحویل اور قانونی حیثیت کے بارے میں متعلقہ حکام سے جواب طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

وقار احمد خان نے سپریم کورٹ کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ کے توسط سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں وفاقی و صوبائی حکام اور پولیس کے متعلقہ افسران سے سپیکر کی بازیابی، ان کی سلامتی یقینی بنانے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے فوری عدالتی احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق صوبائی اسمبلی جیسے اہم آئینی ادارے کے منتخب اسپیکر کا مبینہ اغوا نہ صرف ان کی ذاتی آزادی اور سلامتی کا معاملہ ہے بلکہ اس سے صوبے کے آئینی، پارلیمانی اور جمہوری نظام کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اعلیٰ آئینی منصب پر فائز منتخب عوامی نمائندے کی آزادی سلب کرنا اور ان کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنا آئین، قانون، پارلیمانی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کی جان، آزادی اور جسمانی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا معاملے میں مزید تاخیر ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

درخواست میں آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اور 14 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو قانونی تحفظ، آزادی، سلامتی اور عزت کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور مبینہ غیر قانونی حراست کی صورت میں فوری عدالتی مداخلت ضروری ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کو فوری طور پر بازیاب کرا کے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی جائے کہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اس وقت کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اور اگر ان کی آزادی سلب کی گئی ہے تو کس قانونی اختیار کے تحت ایسا کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے سی سی پی او پشاور کو ہدایت جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے کہ وہ مبینہ اغوا کے واقعے، موقع پر موجود افراد اور اس وقت کیے گئے سکیورٹی انتظامات کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ اس کے علاوہ واقعے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے، مبینہ طور پر ملوث افراد کی نشاندہی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، سکیورٹی ریکارڈ، داخلی و خارجی راستوں کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ شواہد فوری طور پر محفوظ کیے جائیں، جبکہ پولیس حکام اسپیکر کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ بازیابی تک متعلقہ حکام کو مسلسل پیش رفت رپورٹس پیش کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ معاملے کی مؤثر نگرانی ممکن ہوسکے۔ درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ اگر سپیکر کی غیر قانونی حراست ثابت ہو تو ان کی فوری رہائی اور آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

درخواست گزار نے معاملے کو انتہائی حساس اور فوری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے آئینی درخواست بلا تاخیر سماعت کے لیے مقرر کرنے اور اسپیکر کی جان، آزادی، عزت اور جسمانی تحفظ کے لیے فوری احکامات جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔