پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف کردار ادا کرنے کو تیار ہوتی تو ایمرجنسی نہیں لگاتے، رانا ثنااللہ

خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، مشیر وزیراعظم


ویب ڈیسک October 13, 2026

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون اور لانگ مارچ ختم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، جس کے باعث وفاقی حکومت کو یہ اقدام کرنا پڑا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالات ٹھیک ہوں گے اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا اور پاکستان آگے بڑھے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت کے خلاف 12 اکتوبر کو لگنے والی ایمرجنسی مارشل لا تھا اور اس میں آئین کو معطل کردیا گیا تھا اور مارشل کو ایمرجنسی کا نام دیا تھا جبکہ یہ ایمرجنسی آئین کے اندر ہے اور کل پارلیمنٹ اس کی توثیق کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کل خیبر پختونخواہ میں ایمر جنسی کے نفاذ کی قرار داد کی منظوری دے گی۔

بلوچستان کے حالات کا خیبرپختونخوا سے موازنے پر ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کر رہی ہے جبکہ خیبرپختونخوا سے مکمل عدم تعاون تھا، یہ پچھلے 11 ماہ سے بالعموم اور دو ماہ سے بالخصوص اور کاموں میں لگے ہوئے تھے، ان کا صوبے کے امن و امان اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا، اس لیے صوبائی حکومت کے اختیار وفاقی حکومت نے لے لیے ہیں تاکہ جو خلا تھا اس کو پر کیا جائے اور پوری طرح سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کی جائے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں کارکردگی دکھانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، ہمیں ہر قیمت پر اس دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے اور سیاسی سطح پر لوگ کنفیوژ کر رہے ہیں کہ مذاکرات کریں، بیٹھ کر بات کریں لیکن معاملہ یہ ہے کہ ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں ہے، کیا دہشت گرد جو بلوچستان یا خیبرپختونخوا میں ہیں ان کا یہ مطالبہ کیا کہ کسی سے ملاقات یا کسی کا علاج کیا جائے یا کوئی الیکشن کا مطالبہ ہے، ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو الگ کیا جائے اور کہتے ہیں خیبرپختونخوا کا 70 فیصد ہمارا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہے ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات کر رہے ہیں، جو لوگ پاکستان کو توڑنے اور دہشت گردی کی بات کر رہے ہوں ان کے ساتھ کیسے مذاکرات ہوسکتے ہیں اور پی ٹی آئی کا بھی یہی بیانیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یہی کہتے تھے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں، ان کے ساتھ ہمارے دوست ممالک سعودی عرب، چین، ترکیہ اور قطر نے بات کی لیکن وہ کسی بات پر آتے نہیں ہیں تو آپ خواہ مخواہ کنفیوژن پھیلانے اور ان کی مدد کرنے کے لیے بیانیہ دے رہے ہیں، اس بیانیے میں کوئی جان نہیں ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور فتنۃ الخوارج کے لوگ جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور یہاں سے بھی ملوث ہیں، ان جرائم میں بھتہ، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، منشیات ہیں اور ان جرائم کے تلے یہ دہشت گردی پنپ رہی ہے اور اس کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کا کام تھا لیکن وہ کام نہیں کر رہی تھی اسی لیے یہ اقدام کیا گیا، اس اقدام کو کسی دوسرے واقعے سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔

رانا ثنا اللہ کی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ہمیں بے پناہ احترام ہے اور ان کی بات کو کسی صورت غلط کہنے کو تیار نہیں اور مولانا کو کنفیوژن ہوئی ہے یا شاید ہماری طرف بھی ہوئی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے کہا پی ٹی آئی نے تسلی کرائی تھی کہ اصولی طور پرلانگ مارچ کال آف کرنے کو تیار ہیں اور وزیراعظم بھی یقین دہانی کرائیں کہ علاج اور اسپتال سمیت ساری چیزیں کریں گے اور مولانا نے کہا کہ ان میں سے پہلے کون سی بات ہوگی وہ فیصلہ مجھ پر چھوڑیں۔

راناثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے دو ٹوک کہا تھا دو چیزیں یقینی بنائیں، پہلی شرط دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کرنے کی کمٹمنٹ دیں، دوسری شرط دھرنا کال آف کرنا تھا، دھرنا کال آف کرکے اپنی ذمہ داری کی طرف واپس آئیں تو ملاقات سمیت تمام مطالبات قانون کے مطابق پورے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں شرائط پہلے تھیں، اس کے بعد مذاکرات تھے، پھر یہ بات وہ کرنے کو تیار نہیں تھے اور مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوئے اور مولانا کے ساتھ بھی وہ تیار نہیں ہوئے، ورنہ وہ مارچ ختم کرتے اور یقین دہانی کراتے کہ ہم ساتھ دیں گے تو یہ قدم بالکل نہیں اٹھاتے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وقفے کے دوران بھی کہا اگر اس وقت بھی دونوں چیزیں میڈیا پر اناؤنس کر دیں تو یہ قدم نہیں اٹھائیں گے اور یہی بات ہم نے مذاکرات والے روز بھی کی تھی۔