لاہور:
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ایک بار پھر غیر سنجیدہ بیان دیا گیا ہے، جو ایک سینئر سیاست دان کو زیب نہیں دیتا، دہشت گردوں کے حامیوں کی حمایت افسوس ناک ہے، فضل الرحمن کو اپنے بیان پر پشیمانی کا اظہار کرنا چاہیے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سابقہ فاٹا کی محرومیوں کی ذمہ داری وفاق پر ڈالنے کے بجائے تحریک انصاف سے سوال کیا جانا چاہیے، جس کی خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے حکومت رہی ہے سابقہ فاٹا کے فنڈز اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سوالات بھی بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت سے کیے جانے چاہئیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت متعدد مرتبہ دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں اس نوعیت کے بیانات دیتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمن ایسے بیانات دے کر کس کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیاست ضرور کریں، لیکن اداروں اور شہداء کی تضحیک سے گریز کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مولانا فضل الرحمن کے سابقہ بیان پر بھی قوم کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا، تحریک انصاف کی دہشت گرد جماعتوں کے حوالے سے پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاق نے یہ اقدام شوق سے نہیں کیا بلکہ ان کے بقول صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کی دہشت گردوں کے حوالے سے پالیسیوں کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان پر قوم میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے ایک میچور سیاستدان سے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی توقع نہیں کی جاتی، انہیں اپنے الفاظ اور مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔۔