حنا جاوید قتل کیس؛ لواحقین کا تفتیش پرعدم اعتماد، پولیس کا مؤقف سامنے آگیا

ترجمان راولپنڈی پولیس نے کہا کہ تفتیش تمام فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس اور پولی گرافک ٹیسٹ کی روشنی میں کی گئی


عمران اصغر October 17, 2026
فوٹو: فائل

راولپنڈی میں پیش آنے والے حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہ کی جانب سے تفتیش پر عدم اعتماد اور جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبے پر پولیس کا مؤقف سامنے آگیا اور کہا ہے کہ تفتیش تمام فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس اور پولی گراف ٹیسٹ کی روشنی میں سینئر افسران کی نگرانی میں مکمل کی گئی اور کسی دباؤ میں آئے بغیر میرٹ پر کارروائی یقینی بنائی جارہی ہے۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہ کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کے اظہار اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے مطالبے اور تحفظات پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ 20 اگست کو پیش آنے والے واقعے کے پہلے روز سے ہی تمام تکنیکی اور فرانزک شواہد حاصل کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بھی قائم کی۔

ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ماہر ٹیموں نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے، ڈی این اے رپورٹس، پولی گراف ٹیسٹ اور دیگر ٹھوس شواہد کی روشنی میں سینئر افسران کی نگرانی میں مقدمے کی تفتیش کو حتمی شکل دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس فائل کی تیاری میں قانونی ماہرین کی آرا بھی شامل کی گئی تاکہ تفتیش میں کوئی سقم باقی نہ رہے۔

ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا تھا کہ مقدمے میں تمام حقائق اور شواہد کا ہر زاویے سے جائزہ لیا گیا ہے، کسی دباؤ یا اثرورسوخ کو خاطر میں لائے بغیر میرٹ پر بلاتفریق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔