لاہور:
پنجاب میں مثالی گاؤں پروجیکٹ کو بند کردیا گیا جب کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مثالی گاؤں پروجیکٹ فوری طور پر بند کرتے ہوئے کرپشن کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
منصوبے کے تحت 40 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب کے 800 دیہات میں ترقیاتی کام ہونا تھے۔ ابتدائی مرحلے میں 400 دیہات شامل کیے گئے، جن کے لیے 4 ارب روپے سے زائد جاری کیے گئے اور سرگودھا ڈویژن کے دیہات میں ترقیاتی کام شروع کرائے گئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق سرگودھا میں بااثر افسران اور سیاسی گٹھ جوڑ کے ذریعے پارٹنر شپ کی بنیاد پر جعلی کمپنیاں رجسٹرڈ کرائی گئیں، جبکہ ترقیاتی کاموں کے عوض ساڑھے 3 ارب روپے بھی جاری کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں مثالی گاؤں منصوبے سے متعلق کرپشن کی شکایات پر رپورٹ طلب کی تھی، جس میں بتایا گیا کہ سرگودھا ڈویژن میں منصوبے کے 60 فیصد سے زائد کام موقع پر ہوئے ہی نہیں، تاہم ان کی رقم ادا کر دی گئی۔
رپورٹ موصول ہونے کے بعد مریم نواز شریف نے جعلی کمپنیاں بنانے اور کرپشن کے معاملے پر اینٹی کرپشن پنجاب کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ذرائع کے مطابق مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ نے مثالی گاؤں پروجیکٹ فوری طور پر بند کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔