نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ملک میں گندم کی بڑھتی قیمتوں پراظہارِ تشویش کرتے ہوئے ترسیل بڑھانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ضروری اشیائے خورونوش کے ذخائر، قیمتوں اور فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملکی ذخائر، اشیائے ضروریہ کی خریداری، مقامی کھپت اور قیمتوں کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کے ملکی ذخائر تسلی بخش ہیں اور مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گندم کے ملکی ذخائر اور درآمد شدہ گندم آئندہ فصل کی کٹائی تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
گندم کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان پر نائب وزیراعظم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو قیمتوں میں استحکام کے لیے گندم کی فراہمی بڑھانے سمیت تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 155 روپے فی کلو کے مقررہ ہدف سے کم ہے، جبکہ چینی کے ذخائر آئندہ کرشنگ سیزن تک ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ہیں۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور عوام کو اشیائے ضروریہ مناسب قیمتوں پر فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکام کو مارکیٹ نیٹ ورکس پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔
اجلاس میں وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق و موسمیاتی تبدیلی، معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹریز قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور تجارت، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔