حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی دینےکا فیصلہ کیا ہے، محمد اورنگزیب

معاشی استحکام کے ساتھ اصلاحات پر عمل درآمد جاری ہے اور اصلاحات منصوبہ بندی سےعملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، وزیرخزانہ


ارشاد انصاری October 24, 2026
فوٹو: اے پی پی

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اصلاحات اب محض منصوبہ بندی کے مرحلے میں نہیں بلکہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور میں نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، نہ ہی پیٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے قطاریں لگیں اور نہ توانائی کے بحران کے باعث امن و امان کی صورت حال خراب ہوئی۔

انہوں نے کہا پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ سروسز ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور رواں مالی سال آئی ٹی برآمدات 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیےکافی ہیں، ماضی میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے، عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں، پاکستان نے رواں سال اپریل میں پرائیویٹ پلیسمنٹ کی، پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کی اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ارب یورو کے بانڈز جاری کیے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستانی یورو بانڈز کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ حجم سے دو گنا تھے، ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے بانڈز میں دلچسپی ظاہر کی ہے، عالمی سرمایہ کار اب آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کی معاشی صورت حال کو بھی دیکھ رہے ہیں، موجودہ پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہونا ہے۔

توانائی کی صورتحال پربات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان نے توانائی کی خریداری اور فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، نومبر تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں جبکہ موسم سرما کے لیے بھی کام جاری ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی دینےکا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریلیف مستحق طبقے تک پہنچایا جا سکے، موٹرسائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سےکم گاڑیوں کے لیےہدفی سبسڈی دی گئی، جس سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں اور مجموعی طور پر ملک کے تقریباً 4 سے 5 کروڑ افراد اس ریلیف سے مستفید ہوئے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کےساتھ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد جاری ہے اور اصلاحات اب محض منصوبہ بندی کے مرحلے میں نہیں بلکہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔